انتظار کیجئے
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۶، صفحہ ۲۵
نہیں کر سکتا تھا۔ انتظار بے عملی نہیں، انتظار خود ایک عمل ہے۔ اگرچہ یہ ذہنی عمل زیادہ تر سوچ کی سطح پر انجام پاتا ہے۔
صبح کو کوئی کھینچ کر نہیں لاتا۔ وہ کسی کو صرف انتظار کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہے۔ کھیت اور باغ کی فصل جو ایک کسان کو ملتی ہے وہ بھی انتظار کی پالیسی کا نتیجہ ہے۔ کیوں کہ کسان صرف یہ کرتا ہے کہ وہ زمین میں بیج ڈال دیتا ہے۔ اس کے بعد ہزاروں ہزار ضروری عمل ہیں جن کو فطرت بطور خود انجام دیتی ہے۔ کسان گویا زرخیز زمین میں بیج ڈال کر انتظار کرتا ہے کہ کب وہ وقت آئے جب زمین و آسمان کا نظام اپنے عمل کو مکمل کرے اور قیمتی فصل اگا کر اس کے دامن میں ڈال دے۔ یہی اصول زندگی کے تمام معاملات کے لیے ہے۔ قرآن کا یہ ارشاد کہ اللہ مشکل کے بعد آسانی پیدا فرمائے گا۔ ایک عام قانون فطرت کا اعلان ہے، ایک ایسا قانون فطرت جو ہمیشہ اپنا کام کرتا ہے، جس میں کبھی تغیر واقع نہیں ہوتا۔
فطرت کے اس نظام پر آدمی کو اگر یقین ہو تو اس کے اندر جھنجلاہٹ اور مایوسی کا مکمل خاتمہ ہو جائے، وہ سراپا امید اور یقین میں جینے لگے۔
اگر آپ کو اس حقیقت کا یقین ہو جائے تو آپ کو کسی کی ضد کے مقابلہ میں اپنا فائدہ چھوڑنا گھاٹے کا سودا معلوم نہیں ہو گا، کیوں کہ آپ جانیں گے کہ اس کی حسن تلافی عنقریب خدا کی طرف سے کی جانے والی ہے۔
وقار کی قربانی آپ کو قربانی معلوم نہیں ہوگی، کیوں کہ آپ کو یقین ہوگا کہ بہت جلد اس کا معاوضہ اضافہ کے ساتھ ملنے والا ہے۔ کسی کی اشتعال انگیزی پر صبر کرنا آپ کے لیے مشکل نہیں رہے گا۔ کیوں کہ آپ کو دکھائی دے گا کہ اس صبر کے پیچھے خدا کی عظیم نصرت میری طرف چلی آرہی ہے۔ انتظار بے عملی نہیں، انتظار خدا کی اس دنیا میں ایک مثبت پالیسی ہے۔ انتظار ہمت ہارنا نہیں ہے، انتظار اس بلند ہمتی کا ثبوت دینا ہے کہ آپ وقتی ہیجان سے اوپر اٹھ گئے ہیں اور مستقبل بینی کی بصیرت کے حامل ہیں۔ انتظار فریق ثانی کے مقابلہ میں ہتھیار نہیں ہے۔ انتظار یہ ہے کہ فریق ثانی سے مقابلہ کے لیے آپ نے اپنی ذات کو ہٹا دیا اور خدا وند عالم کو اپنی جگہ کے اوپر کھڑا کر دیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1996 All issues