پیغمبرانہ نصیحت
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۶، صفحہ ۲۷
زندگی کو بنانے اور گھر کو آباد کرنے کے اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس کو شوق تھا کہ اس کی بیوی ظاہر کے اعتبار سے پرکشش ہو، مگر خداوند عالم نے اس کے لیے ایسی بیوی مقدر کر دی جو باطن کے اعتبار سے پرکشش تھی، اور اول الذکر کے مقابلہ میں ثانی الذکر یقیناً زیادہ اہم ہے۔ یہی معاملہ دوسری صورت میں عورت کے لیے بھی ہے۔ عورت کی بھی مختلف خواہشیں ہوتی ہیں وہ چاہتی ہے کہ میرا رفیق ایسا ہو اور ویسا ہو۔ مگر اس کو بھی تقدیر کے اوپر راضی ہونا ہے۔ کیوں کہ عین ممکن ہے کہ جو شخصیت اسے ملی ہے وہ اس سے زیادہ قیمتی ہو جس کو وہ چاہتی تھی۔ مثلاً ایک عورت کی خواہش تھی کہ اس کا شوہر دولت مند ہو، مگر تقدیر نے اس کو دولت مند شوہر یں دیا۔ مگر اس پر غم زدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ ایک شخص کے پاس اگر نہ زیادہ دولت نہ ہو تو کچھ اور چیزیں اس کے پاس دولت مندوں سے زیادہ ہوتی ہیں۔ مثلاً سنجیدگی، حساسیت، تواضع، ہمدردی، جدوجہد کا جذبہ، وغیرہ۔ اور یہ دوسری چیزیں یقینی طور پر دولت سے زیادہ قیمتی ہیں۔
اسی طرح مثلاً ایک عورت کو ایسا خاوند ملا ہے جو نسب کے اعتبار سے زیادہ اونچا نہیں ہے۔ جب کہ عورت کی خواہش تھی کہ اس کو عالی نسب خاوند ملے۔ اس فرق کی بنا پر عورت اگر اپنے خاوند کو کم سمجھنے لگے تو وہ بہت بڑی نادانی کرے گی۔ کیوں کہ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ عالی نسب ہوتے ہیں وہ اخلاق اور انسانیت میں زیادہ اونچے نہیں ہوتے۔ وہ اپنے کودوسروں سے اونچا سمجھنے لگتے ہیں۔ ان کا یہ احساس ان کے اندر طرح طرح کی برائیاں پیدا کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس جو آدمی اس فخر سے خالی ہو کہ وہ اعلیٰ حسب و نسب والا ہے، وہ نسبتاً زیادہ حقیقت پسند اور فرض شناس اور دوسروں کی رعایت کرنے والا ہوتا ہے۔ اس دنیا میں کوئی بھی اچھی چیز خرابیوں سے پاک نہیں، اسی طرح کوئی بھی معمولی چیز خوبیوں سے خالی نہیں۔ اس لیے عورت اور مرد کو چاہیے کہ اپنی ملی ہوئی چیز ہی میں خوبیاں تلاش کریں، نہ کہ اس کو چھوڑ کر کسی اور چیز کی طرف دوڑنا شروع کر دیں۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کو کبھی مایوسی میں نہیں پڑنا چاہیے۔ کیوں کہ ہر بظاہر مایوسی کے واقعہ میں اللہ نے امید کا ایک پہلو چھپا دیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1996 All issues