ہاجرہؓ _ امِ اسماعیل
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۶، صفحہ ۳۶
ہاجرہؓ _ امِ اسماعیل
زندگی کے نظام میں عورت کی حیثیت بظاہر نصف حصہ کی ہے۔ مگر عملی اعتبار سے عورت کلیدی کردار کی حامل ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ ہر بڑے آغاز کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے : There is a woman at the beginning of all great things. قدیم تاریخ میں اس کی ایک شاندار مثال وہ خاتون ہیں جن کو ہاجرہ (Hagar) کہا جاتا ہے۔ ان کا زمانہ بیسویں صدی قبل مسیح ہے۔ ان کی غیر معمولی قربانی سے عرب کے صحرا میں ایک اعلیٰ درجہ کی نسل تیار ہوئی ۔ اس نسل نے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت کو قبول کر کے وہ جدوجہد کی جس کے نتیجہ میں تاریخ کا عظیم ترین انقلاب برپا ہوا۔
حج کے ارکان میں سے ایک رکن وہ ہے جس کو صفا اور مروہ کے درمیان سعی کہا جاتا ہے۔ یہ دو پہاڑیاں ہیں جن کے درمیان تقریباً ۳۹۵ میٹر کا فاصلہ ہے۔ اس کے علاوہ ہر روز دنیا بھر سے عمرہ کرنے والے عمرہ کرنے کے لیے مکہ پہنچتے ہیں اور وہ بھی طواف کعبہ کے بعد صفا و مروہ کے درمیان سعی کرتے ہیں۔ اس طرح صفا و مروہ کے درمیان سعی کا یہ سلسلہ سارے سال جاری رہتا ہے۔ یہ سعی کیا ہے جس کو تمام مسلمان، خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے، پوری وفاداری کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔ یہ اسی عظیم خاتون ہاجرہ کے نقش کی پیروی ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ نے ہاجرہ کو ان کے چھوٹے بچہ کے ساتھ مکہ کے پاس صحرا میں ڈال دیا تھا۔ اس وقت ان کے پاس صرف ایک مشک پانی تھا۔ مشک جب خالی ہوگئی تو پانی کی تلاش میں وہ اس پہاڑی سے اُس پہاڑی تک سات بار دوڑی تھیں ۔ ان کی یہ دوڑ ان کی عظیم قربانی کا ایک حصہ تھی۔ اللہ تعالیٰ کو یہ قربانی اتنا زیادہ پسند آئی کہ اس کو حج کے ارکان میں شامل کر دیا گیا اور دنیا بھر کے تمام مسلمانوں پر لازم کر دیا گیا کہ وہ جب حج یا عمرہ کے لیے مکہ آئیں تو اس خاتون کی تقلید میں صفا و مروہ کے درمیان دوڑیں۔
حضرت ہاجرہ کی قربانی سے ایک تاریخ کا آغاز ہوا۔ انھوں نے تاریخ کے سب سے بڑے انقلاب کی ابتدائی بنیاد رکھی ۔ گویا کہ انسانی تاریخ میں ان کی حیثیت بانی انقلاب کی ہے۔ ان کی اسی قربانی کی بنا پر تمام انسانوں کو ان کے نقش قدم کی پیروی کا حکم دے دیا گیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1996 All issues