Al-Risala · April 1996 · page 15

مظلوم کے لیے خوش خبری

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۶، صفحہ ۱۵

ایسا ہوتا ہے کہ ایک صحابی دوسرے صحابی کے رویہ کو اتنا زیادہ غلط سمجھ لیتا ہے کہ اس پر اس کو غصہ آجاتا ہے۔ حالاں حقیقت کے اعتبار سے اس میں کوئی غلطی نہیں ہوتی۔ یہ دراصل غلط فہمی کا معاملہ تھا نہ کہ غلط کاری کا۔

اصل یہ ہے کہ حضرت عمر ابتدائی مرحلہ میں مذکورہ واقعہ کو محض ظاہر کے اعتبار سے لے رہے تھے۔ ظاہر کے اعتبار انہیں دکھائی دیا کہ حضرت ابو بکر اور حضرت عثمان نے نامناسب رویہ اختیار کیا۔ مگر جب معاملہ کی اصل حقیقت معلوم ہوئی تو پتہ چلا کہ ان کا رویہ بالکل درست تھا۔ اس میں غصہ ہونے کی کوئی بات سرے سے موجود ہی نہ تھی۔

ایک صحابی کو جب دوسرے صحابی کے معاملہ میں غلط فہمی ہو سکتی ہے تو عام مسلمان کو دوسرے مسلمان کے معاملہ میں بھی یقیناً غلط فہمی ہو سکتی ہے۔ اس لئے آدمی کو چاہئے کہ کسی کے متعلق بری رائے قائم کرنے میں وہ انتہائی محتاط ہو۔ عین ممکن ہے کہ بعض ظاہری چیزوں کو دیکھ کر وہ بری رائے قائم کر رہا ہو۔ حالانکہ کہ زیادہ گہرے اسباب بتا رہے ہوں کہ یہ سراسر غلط فہمی کی بات ہے، کیونکہ وہاں سرے سے کوئی غلط فعل پایا نہیں جارہاہے۔

موجودہ دنیا میں باہمی تعلقات میں بگاڑ کا سبب اکثر حالات میں غلط فہمی ہوتا ہے۔ حتی کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ظاہر حالات کے اعتبار سے غلط فہمی بالکل درست معلوم ہوتی ہے۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ بالکل بے بنیاد ہوتی ہے۔

یہ غلط فہمی دو مخلص افراد یا دو سچے تصور گروہوں کے درمیان بھی ہو سکتی ہے۔ اس لئے آدمی کو چاہئے کہ جب بھی غلط فہمی کی صورت پیدا ہو تو ایسا کرے کہ اس پر یقین کر کے بیٹھ جائے ۔ بلکہ متعلق افراد سے مل کر اس کی تحقیق کرے ۔ کامل تحقیق کے بغیر ہر گز وہ اس کو تسلیم نہ کرے ۔ تحقیق کا طریقہ غلط فہمی سے پیدا ہونے والی برائیوں کے لئے قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔

پھر یہ بھی ضروری ہے کہ تحقیق کے بعد جب غلط فہمی بے بنیاد ثابت ہو تو فورا اپنے دل و دماغ سے اس کو نکال دے۔ اپنے آپ کو دوبارہ اسی طرح معتدل بنالے جس طرح وہ غلط فہمی کی صورت پیدا ہونے سے پہلے تھا۔

تحقیق کو اپنا اصول بنا لیجئے ۔ اور پھر آپ کو کسی سے شکایت نہیں ہوگی۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1996 All issues

Printed page