حبّ شدید
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۶، صفحہ ۲۷
انھوں نے بتایا کہ ایک بار کارخانے کے ورکروں نے ہڑتال کر دی۔ چھ گھنٹہ تک جاری رہنے کے بعد ہڑتال ختم ہوگئی۔ اگلے دن وہ کارخانہ آئے تو انھوں نے دیکھا کہ لنچ کے وقت ورکروں نے چھٹی نہیں کی، وہ لگاتار کام کرتے چلے جا رہے ہیں۔ انھوں نے ایک ورکر سے پوچھا کہ آج تم لوگوں نے لنچ کا وقفہ کیوں نہیں کیا۔ اس نے کہا کہ کل کی ہڑتال کی کمی پوری کرنے کے لئے۔ محمود صاحب نے کہا کہ اس ہڑتال میں تو مینجمنٹ کی غلطی تھی۔ ورکر نے کہا کہ غلطی جس کی بھی ہو جب کام کم ہوگا تو نیشنل آوٹ پٹ کم ہوگا۔ اور پھر پوری قوم کو اس کا انجام بھگتنا پڑے گا۔
یکم اکتوبر کی شام کو نماز مغرب کے بعد برمنگھم کی مسلم خواتین کا اجتماع تھا۔ اس اجتماع کا انتظام جناب شمشاد خاں صاحب کے مکان پر کیا گیا تھا۔ خواتین مکان کے ایک بڑے کمرہ میں جمع ہوگئیں ۔ ایک اور کمرہ میں مائک کا انتظام تھا۔ یہاں سے میں نے مائک پر اپنی تقریر کی۔ کچھ اعلیٰ تعلیم یافتہ مرد بھی اس اجتماع میں شریک تھے۔
میں نے کہا کہ اسلام پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے عورت کا درجہ گھٹایا ہے۔ مگر یہ ایک لغو بات ہے۔ میں نے کہا کہ ایک چیز ہے عورت کا احترام اور اس کے حقوق۔ وسری چیز ہے ورک پلیس کا مسئلہ۔ اسلام میں عورت اتنی ہی محترم اور معزز ہے جتنا کہ مرد۔ البتہ ورک پلیس کے معاملہ میں دونوں میں فرق کیا گیا ہے۔ اور اس کی وجہ دونوں کا حیاتیا تی فرق ہے۔ پھر میں نے کہا کہ مغرب میں کہا جاتا ہے کہ (Ladies first) مگر اس اصول کو اسلام میں زیادہ بڑے پیمانے پر قائم کیا گیا ہے۔ اور اس کی مثال یہ ہے کہ دنیا بھر کے تمام مسلمان جو حج کے لئے جاتے ہیں وہاں وہ صفا دو مروہ کے درمیان سعی کرتے ہیں۔ یہ ایک خاتون کے نقشِ قدم کی پیروی ہے جن کا نام ہاجرہ تھا۔
حضرت ہاجرہ کو یہ عظیم مرتبہ کیوں ملا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے ایک نئی نسل بنانے کے لئے قربانی دی تھی۔ وہ اس مقولہ کی بہترین مثال تھیں کہ :
There is a woman at the beginning of all great things. میں نے کہا کہ آج مسلم خواتین کو حضرت ہاجرہ کے اسی رول کو دہرانا ہے۔ انھیں دوبارہ اپنے بچوں کو تربیت دے کر ایک نئی نسل تیار کرنی ہے جو دورِ جدید میں اسلام کی عظمت قائم کر سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1996 All issues