The Qur'an opens our spiritual eyes.
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۶، صفحہ ۴۱
جہاز ابھی درمیان میں تھا کہ وہ صورت پیش آئی جس کو ہوا بازی کی اصطلاح میں کہا جاتا ہے۔ جہاز تیزی سے نیچے اور اوپر ہونے لگا۔ دل سے یہ دعا نکلی کہ خداایا ، خیریت کے ساتھ مجھ کو دہلی پہنچا ۔ دنیا سے لے کر آخرت تک خیریت کا معاملہ فرما ۔ ہر مرحلہ میں اور ہر پہلو سے میری مدد فرما ۔
جہاز کے کیپٹن نے اعلان کیا کہ ہمارا جہاز ۵۰۰ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دہلی کی طرف جارہا ہے۔ اس کو سن کر خیال آیا کہ عین اسی وقت ہر مسافر ایک اور سفر طے کر رہا ہے۔ یہ آخرت کا سفر ہے۔ زمین مزید تیزی کے ساتھ ۱۰۰۰ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑتی ہوئی علامتی طور پر بتارہی ہے کہ آخرت کا سفر اس سے بھی زیادہ سرعت کے ساتھ مسلسل جاری ہے۔ میں نے سوچا کہ جس طرح جہاز کا کیپٹن اعلان کرکے لوگوں کو سفر دنیا کی حقیقت سے باخبر کر رہا ہے ، کاش اسی طرح تمام انسانوں کو سفر آخرت کے بارے میں بتایا جاسکے ۔ کاش ایسا ہو کہ اس دنیا کا کوئی کان نہ ہو جس نے اس اعلان کو نہیں سنا، اور کوئی آنکھ نہ ہو جس نے اس خبر کو نہیں پڑھا۔ پھر خیال آیا کہ لندن ایئر پورٹ کی ایک دیوار پر میں نے برٹش ایئرویز کے ایگزیکٹیو Sir John Egan کے دستخط سے ایک بورڈ پر یہ الفاظ پڑھے تھے : We won't be satisfied with the service at our airport unti you are. میں نے سوچا کہ دعوت کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے ۔ دعوت صرف اس وقت مکمل ہوتی ہے جب کہ مدعو اس بات کا اعتراف کرلے کہ مجھے پیغام پوری طرح پہنچا دیا گیا ۔ دعوت کی تکمیل داعی کے دعویٰ کی بات نہیں ہے بلکہ مدعو کے اقرار کی بات ہے ، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے کہ اور تاکہ لوگ کہہ دیں کہ تم نے پڑھ دیا (الانعام ۱۶۵) راستہ میں لندن کے اخبار ڈیلی میل (۲۷ اکتوبر ۱۹۹۳) میں ایک سبق آموز رپورٹ پڑھی اس کا عنوان تھا : (height of inhumanity) رپورٹ کا خلاصہ یہ تھا کہ ایک برطانی خاتون کے بچہ کا انتقال ہو گیا ۔ اس کا تابوت کچھ بڑا تھا ، اس لئے اس کو بچوں کے خوبصورت قبرستان میں دفن کرنے کی اجازت نہیں ملی۔ اس کا سات سالہ بچہ بڑوں کے قبرستان میں دفن کیا گیا ۔ یہ اگر چہ قانون کے مطابق تھا۔ مگر خاتون کو اس کا نہایت سخت صدمہ ہوا :
‹ Previous page Next page › Contents of April 1996 All issues