Al-Risala · January 1996 · page 18

قدیم و جدید کا فرق

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۶، صفحہ ۱۸

کوئی دلیل نہیں۔ کیوں کہ اہل ظاہر ہر زمانہ میں رہے ہیں۔ اور یہ بھی نہیں کہ سب اہل ہی ہوں ۔ وہ اس اتفاق سے علیحدہ رہے۔ دوسرے اگر اجماع ثابت بھی ہو جائے تو تقلید شخصی پر کبھی اجماع نہیں ہوا(تذکرۃ الرشید ، جلد اول، صفحه ۱۳۱)

قدیم و جدید کا فرق

ایک مسلم اسکالر نے لکھا ہے کہ آرتھوڈ اکسی کے فریم ورک میں رہ کر ہی اجتہاد کیا جانا چاہیے۔ یہ بات بجائے خود غلط نہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ آرتھوڈ اکسی سے کیا مراد ہے۔ کیا اس سے مراد وہ چار فقہی اسکول ہیں جو چوتھی ہجری میں رائج ہوئے یا قرآن و سنت۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس دعوی کے حق میں کوئی حقیقی دلیل موجود نہیں کہ آرتھوڈاکسی کے فریم ورک سے مراد ائمہ اربعہ کا فریم ورک ہے۔ ایسا دعوی نہ خود ائمہ اربعہ نے کیا۔ اور نہ قرآن و حدیث میں اس کا کوئی ثبوت پایا جاتا ہے۔ اس لیے آرتھوڈ اکسی کے فریم ورک سے لازمی طور پر قرآن وسنت کا فریم ورک مراد لینا ہوگا۔ اس وضاحت کی روشنی میں دونوں قسم کے اجتہاد کو سمجھا جاسکتا ہے ۔ اجتہاد مطلق میں براہ راست قرآن و سنت پر غور کر کے حکم معلوم کیا جاتا ہے ، جب کہ اجتہاد مقید میں آدمی پابند ہوتا ہے کہ وہ مدون فقہ کے دائرہ میں رہتے ہوئے اپنی رائے قائم کرے۔ موجودہ زمانہ میں اسلامی تفکیر کے معطل ہونے کا اصل سبب یہی تقسیم ہے۔ موجودہ زمانہ کا عالم شعوری یا غیر شعوری طور پر مدون فقہ کے ڈھانچہ سے باہر جاکر سوچ نہیں پاتا ، اس لیے وہ موجودہ زمانہ کے فکری مسائل میں گہری رہنمائی دینے سے بھی قاصر رہتا ہے۔

جیسا کہ معلوم ہے ، فقہاء اربہ کا زمانہ دور جدید سے بہت پہلے کا زمانہ ہے۔ اس لیے یہ بالکل فطری بات ہے کہ ان کی مدون کی ہوئی فقہ اپنے بعد کے زمانہ کا احاطہ کرنے والی نہ ہو۔ بعد کے زمانہ کے لیے رہنمائی کتاب و سنت سے ملے گی جو کہ ابدی ہے ، نہ کہ مدون فقہ سے جو یقینی طور پر وقتی اور زمانی ہے۔

اس معاملہ کو مثال سے سمجھیے۔ موجودہ فقہ خلافت عباسی کے زمانہ میں بنی۔ اس وقت مسلمانوں کو زمین پر کلی اقتدار حاصل تھا۔ چنانچہ یہ مدون فقہ یہ بتاتی ہے کہ مسلمان جب حکمران حیثیت میں ہوں تو ان کے لیے شرعی احکام کیا ہیں۔ اس میں ایسے ابواب کثرت سے پائے جاتے

‹ Previous page Next page › Contents of January 1996 All issues

Printed page