Al-Risala · May 1996 · page 12

صبر کی تعلیم

الرسالہ، مئی ۱۹۹۶، صفحہ ۱۲

صبر کی تعلیم

ایک مغربی مبصر ولیم پیٹن (William Paton) نے لکھا ہے کہ اسلام کا ایک پھل انسانیت کے لیے یہ رہا ہے کہ اس نے لوگوں میں شدید اور مستقل صبر پیدا کیا۔ صبر کی یہ کیفیت ان میں اللہ کی کامل اطاعت سے پیدا ہوئی :

یہ تبصرہ نہایت درست ہے۔ اسلام میں صبر کی بے حد اہمیت ہے۔ قرآن کی بیشتر آیتیں، براہ راست یا بالواسطہ طور پر ، صبر ہی سے متعلق ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر کی صفت ایک ایسی صفت ہے جس کے بغیر ایمان و اسلام کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔

موجودہ دنیا اس ڈھنگ پر بنی ہے کہ یہاں بار بار آدمی کو ناخوشگوار تجربات سے سابقہ پیش آتا ہے، گھر کے اندر بھی اور گھر کے باہر بھی۔ اب اگر آدمی ہر ایسے موقع پر لوگوں سے الجھ جائے تو وہ انسانی ترقی کی طرف زیادہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اس لیے اسلام میں صبر کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ تاکہ آدمی ناخوش گواریوں کو نظر انداز کرتے ہوئے مقصدِ اعلیٰ کی طرف اپنے سفر کو جاری رکھ سکے ۔

قرآن میں بار بار صبر کی تاکید کی گئی ہے۔ مثلاً فرمایا کہ جو مصیبتیں تمہارے اوپر پڑیں ان پر صبر کرو (لقمان ۱۷)، صبر کرو، اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے (الانفال ۴۶) فرمایا کہ گھاٹے سے محفوظ رہنے والے لوگ وہ ہیں جو ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کریں اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کریں (العصر ۳) اسی طرح حدیث میں کثرت سے صبر کی اہمیت بتائی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (سمعوا واطيعوا و اصبروا (مسنداحمد) یعنی سنو اور مانو اور صبر کرو۔ آپ نے فرمایا : امر الله بالصبر والعفو (ابو داؤد، کتاب الامارة) یعنی اللہ نے صبر اور عفو و درگزر کا حکم دیا ہے۔ ایک صحابی کہتے ہیں: کان النبی واصحابه يصبرون علیٰ (الادمی (البخاری، کتاب التفسیر) یعنی رسول اور اصحابِ رسول ہمیشہ ایذاؤں پر صبر کرتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر اسلامی عمل کی بنیاد ہے۔ فتنوں اور آزمائشوں کی اس دنیا میں صبر کے بغیر کوئی آدمی اسلامی کردار پر قائم نہیں رہ سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1996 All issues

Printed page