صلاحیتوں کا فقدان نہیں
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۶، صفحہ ۲۰
پاس رہ نمائی موجود ہے اور اگر ہم مدینہ کے نصف آخر جیسے حالات میں ہوں تب بھی۔ اجتہاد مقید کی صورت میں ہم گویا ایک بند گلی میں پھنس کررہ جاتے ہیں۔ مگر اجتہاد مطلق ہمارے لیے زندگی کے تمام دروازے کھول دیتا ہے، اس کے بعد کوئی دروازہ ہمارے لیے بند نہیں رہتا۔
صلاحیتوں کا فقدان نہیں
میں سمجھتا ہوں کہ اجتہاد مطلق کو ”مجتہد مطلق“ کی پیدائش کے ساتھ جوڑنا، بجائے خود ایک غیر معقول بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ کا تعلق تمام ترذہنیت سے ہے نہ کہ کسی مفروضہ مجتہد مطلق کی پیدائش سے۔ یعنی ملت کے اوپر اگر ذہنی جمود کی حالت طاری نہ ہو، بلکہ اس کے اندر آزادانہ فکر کی فضا موجود ہو تو اجتہاد مطلق کا عمل بھی لازمی طور پر جاری رہے گا۔ مجتہد مطلق تو ہمیشہ ہی پیدا ہوتے ہیں۔ البتہ آزادانہ فکر کی فضا نہ ہونے کی وجہ سے ان کو وہ سازگار ماحول نہیں ملتا جس میں وہ اپنے حصہ کا عمل انجام دے سکیں۔
عالی دماغ انسانوں کی پیدائش کبھی بند نہیں ہوتی۔ وہ ہمیشہ جاری رہتی ہے۔ چنانچہ خود نظام فطرت کے تحت اسلام کی بعد کی تاریخ میں بار بار اعلیٰ صلاحیت کے اہل علم پیدا ہوتے رہے ہیں مثال کے طور پر الغزالی (۱۱۱۱ - ۱۰۵۸) ابن تیمیہ (۱۲۸ - ۱۳۲۸) الشاطبی (م ۱۳۸۸) جلال الدین سیوطی (۱۵۰۵ - ۱۴۴۵) شاہ ولی اللہ (۱۷۶۲ - ۱۷۰۳) انور شاہ کشمیری (۱۹۳۳- ۱۸۷۵) وغیرہ۔ یہ کہنا امت محمدی کی تصغیر ہے کہ ائمہ اربعہ کے بعد اس صلاحیت کے لوگ امت میں پیدا نہیں ہوئے۔ حقیقت یہ ہے کہ چوتھی صدی ہجری کے بعد بھی ایسے لوگ امت میں پیدا ہوتے رہے جو اپنے وسیع علمی مطالعہ، اپنی اعلیٰ ذہنی استعداد اور اپنی بے داغ اسلامیت کے ساتھ اس قابل تھے کہ وہ مجتہد مطلق کا کردار ادا کر سکیں۔
پھر کیا وجہ ہے کہ صحابہ اور تابعین اور تبع تابعین کے دور میں بہت سے ایسے لوگ ابھرے جو مجتہدانہ زبان میں کلام کرتے تھے۔ مثلاً عائشہ صدیقہ، عبداللہ بن عمر، ابراہیم نخعی، سفیان ثوری، امام شعبی اور دور اول کے علماء ِفقہ، وغیرہ۔ مگر چوتھی صدی ہجری کے بعد اٹھنے والے علماء، اپنی تمام اعلیٰ صلاحیتوں کے باوجود، مجتہدانہ انداز میں بولنے کی جرأت نہ کر سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1996 All issues