Al-Risala · May 1996 · page 17

نرمی کا انداز

الرسالہ، مئی ۱۹۹۶، صفحہ ۱۷

نرمی کا انداز

اسلام کی تعلیمات کو اپنانے کے بعد آدمی کے اندر جو مزاج بنتا ہے وہ نرمی اور رفق کا مزاج ہے۔ اسلام میں وہ اس حقیقت کو دریافت کرتا ہے کہ خدا بڑا ہے (اللہ اکبر) یہ دریافت اس کو بتاتی ہے کہ بڑائی تو صرف خدا کے لیے ہے، میرے لیے بڑائی نہیں۔ اس طرح اپنے آپ اس کے اندر انکسار اور فروتنی کا مزاج پیدا ہو جاتا ہے۔

تاہم نرمی کے سلوک پر قائم رہنے کی لازمی شرط یہ ہے کہ آدمی کے اندر بے پناہ حد تک برداشت کا مزاج ہو۔ موجودہ دنیا میں بار بار دوسروں کی طرف سے ناخوش گواری کا تجربہ ہوتا ہے۔ اس لیے نرمی کے سلوک پر وہی شخص قائم رہ سکتا ہے جو ردعمل کی نفسیات سے اپنے آپ کو بچا سکے۔ اس لیے قرآن میں خدا پرست انسان کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ ــــ غصہ کو پی جانے والے اور لوگوں کو معاف کرنے والے (والکاظمين الغيظ والعافين عن الناس) آل عمران ۱۳۴ بخاری اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نرم ہے اور ہر معاملے میں نرمی کو پسند کرتا ہے (ان اللہ رفیق يحب الرفق في الامر كله) اسی طرح آپ نے فرمایا : ان الله رفيق يحب الرفق ويعطى على الرفق مالا يعطى على العنف وما لا يعطى على ماسواه (صحيح مسلم) یعنی اللہ نرم ہے اور نرمی کو پسند کرتا ہے ۔ وہ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو سختی پر نہیں دیتا اور نہ کسی دوسری چیز پر۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ : من يحرم الرفق يُحرم الخير كله (صحيح مسلم) یعنی جو شخص نرمی سے محروم ہو وہ تمام بھلائیوں سے محروم ہو جائے گا۔ اگر آپ لوگوں سے معاملہ کرتے ہوئے اکڑ سے کام لیں تو آپ لوگوں کی انا کو جگائیں گے ۔ اس طرح مسئلہ بڑھے گا۔ پہلے اگر آپ کو کڑوے بول سے سابقہ پیش آیا تھا تو اب آپ لوگوں کے پتھر کو سہنے کے لیے مجبور کر دیے جائیں گے۔ اس کے بجائے اگر آپ معاملات میں نرمی والا طریقہ اختیار کریں تو آپ کا یہ سلوک لوگوں کے ضمیر کو جگائے گا۔ اب معاملہ بر عکس ہوگا۔ پہلے اگر کوئی شخص آپ کا مخالف بنا ہوا تھا تو اب وہ مخالفت کو بھول کر آپ کا قریبی دوست بن جائے گا۔ نرمی کامیاب انسان کی صفت ہے اور اکڑ ناکام انسان کی صفت ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1996 All issues

Printed page