Al-Risala · January 1996 · page 22

دور جدید کا آغاز

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۶، صفحہ ۲۲

طرف اپنے اوپر اجتہاد کا دروازہ بند کر لیا، حالانکہ قائم الزمان کی ذمہ داری کو ادا کرنے کے لیے اجتہاد کا عمل لازمی طور پر ضروری تھا۔

شاہ ولی اللہ صاحب نے عقد الجید فی احکام الا جتہاد والتقلید اور بعض دوسری کتابوں میں اجتہاد کے مسئلہ پر کلام کیا ہے ۔ اس معاملہ میں ان کی رائے کا خلاصہ یہ ہے کہ اجتہاد کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک اجتہاد مطلق، اور دوسرا اجتہاد مقید۔ وضاحت کی خاطر، اس کو ہم کلی اجتہاد اور جزئی اجتہاد بھی کہہ سکتے ہیں۔ شاہ صاحب کے نزدیک اب اجتہاد مطلق کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔ کیوں کہ امام شافعی (۸۲۰ - ۷۶۷ کے بعد اب کوئی مجتہد مطلق پیدا ہونے والا نہیں۔

شاہ صاحب کے نزدیک اب قیامت تک کے لیے اجتہاد کی صرف دوسری قسم (اجتہاد مقید) کی گنجائش باقی ہے ۔ اب جو شخص بھی اجتہاد کرنا چاہے گا اس کو لازمی طور پر ائمہ اربعہ کے مقرر کیے ہوئے طریقوں کی بنیاد پر استنباط کرنا ہو گا۔ وہ بلا قید اجتہاد نہیں کر سکتا۔ اگر چہ اجتہاد مطلق کا حق اب کسی کو نہیں، مگر اجتہاد مقید کا دروازہ کھلا ہوا ہے اور وہ ہمیشہ کھلا رہے گا۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک غیر ضروری تقسیم ہے۔ اجتہاد کا انقطاع ہو گیا یا نہیں، یہ سوال اصلاً اجتہاد مطلق یا اجتہاد مستقل کے سلسلہ میں پیدا ہوتا ہے۔ کیوں کہ جہاں تک اجتہاد مقید کا تعلق ہے، وہ تو ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ وہ ہر حال میں جاری رہے گا، خواہ اس کا دروازہ بند کیا جائے یا نہ بند کیا جائے۔ حتی کہ لفظی اعلان کے بغیر بھی وہ ہمیشہ خود اپنے زور پر جاری رہتا ہے۔

اس کی ایک مثال یہ ہے کہ قرآن میں یہ حکم دیا گیا تھا کہ دشمنوں سے مقابلہ کے لیے قوت فراہم کرو (الانفال ۶۰) حدیث میں اس کی تشریح یہ آئی ہے کہ سن لو کہ قوت سے مراد تیر مارنا ہے ، سن لو کہ قوت سے مراد تیر مارنا ہے ( الا ان القوة الرمی الا ان القوة الرمی)

موجودہ زمانہ میں بم اور گن کی ایجاد ہوئی تو ساری دنیا کے مسلمان جنگ کے مواقع پر بم اور گن کا استعمال کرنے لگے۔ حالاں کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ علماء نے " اجتہاد مقید " کہہ کر کے یہ اعلان کیا ہو کہ قدیم زمانہ میں قوت کا مطلب تیر تھا، مگر آج قوت کا مطلب گن اور بم ہے۔ اس قسم کے کسی اعلان کے بغیر ساری دنیا کے مسلمانوں نے خود بخود اس معاملہ میں مجتہدانہ روش کو اختیار کر لیا۔ اس لیے اجتہاد کی بحث میں اصلاً قابل غور معاملہ اجتہاد مطلق یا اجتہاد کلی کا ہے۔ کیونکہ اجتہاد

‹ Previous page Next page › Contents of January 1996 All issues

Printed page