Al-Risala · May 1996 · page 44

آفاقی انسان

الرسالہ، مئی ۱۹۹۶، صفحہ ۴۴

آفاقی انسان

قرآن ایک عالمی کتاب ہے۔ اس کی تمام تعلیمات آفاقیت پر مبنی ہیں، قرآن میں جس خدا کا تصور دیا گیا ہے وہ رب العالمین ہے (الفاتحہ (1) قرآن کا پیغمبر نذیر للعالمین ہے (الفرقان (1) قرآن کے ذریعہ جو دین بھیجا گیا ہے وہ ایک کائناتی دین ہے (آل عمران (۸۳)

قرآن کا پیغام پوری انسانیت کے لیے ہے نہ کہ کسی مخصوص گروہ کے لیے۔ قرآن عالمی قدروں کو زندہ کرنا چاہتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قال : لن تؤمنوا حتی ترحموا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم ہرگز مومن قالوا كلنا رحیم یا رسول اللہ۔ قال نہیں ہو سکتے جب تک تم رحم نہ کرو۔ لوگوں نے انہ ليس برحمة احدكم صاحبه کہا کہ اے خدا کے رسول، ہم میں سے ہر شخص رحم کرنے ولكنها رحمة الناس رحمة العامة والا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے (فتح الباری (۴۵۳/۱۰ کہ تم اپنے ساتھی پر مہربانی کرو۔ بلکہ اس سے مراد تمام لوگوں اور تمام انسانوں کے ساتھ رحم کرنا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جب ایک شخص خدائے رب العالمین پر ایمان لاتا ہے تو عین اس کا ایمان ہی اس کے اندر آفاقی ذہن پیدا کر دیتا ہے۔ وہ فطرت سے جڑ جاتا ہے جو عین اپنی نوعیت کے اعتبار سے کائناتی ہے۔ وہ دریافت کرتا ہے کہ وہ وسیع تر انسانی برادری کا ایک جز ہے کیونکہ ساری انسانی برادری ایک ہی خدا کی مخلوق اور اس کی عیال ہے۔

یہ آفاقی ذہن اس کے اندر آفاقی محبت کی پرورش کرتا ہے۔ سارے انسان اس کو اپنے دکھائی دینے لگتے ہیں۔ اس کے سینہ میں سارے انسانوں کی محبت کا چشمہ ابل پڑتا ہے۔ وہ سب کو اپنا سمجھنے لگتا ہے اور اپنے آپ کو سب کا۔

اسلام کی بنیاد پر بننے والے انسان کا مزاج اپنے آپ کو تمام انسانوں کا خیر خواہ بنا دیتا ہے۔ وہ تمام انسانوں سے محبت کرنے والا ہو جاتا ہے۔ تمام انسانوں کی خدمت کرنے کا جذبہ اس کے اندر امنڈ پڑتا ہے۔ وہ ہر اعتبار سے ایک آفاقی انسان بن جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1996 All issues

Printed page