Al-Risala · January 1996 · page 1

فکر اسلامی کی تشکیل جدید

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۶، صفحہ ۱

فکر اسلامی کی تشکیل جدید

دورِ جدید کی نسبت سے فکر اسلامی کی تشریح و توضیح وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ یہی وہ ابتدائی نکتہ ہے جہاں سے اسلام کی تجدید اور ملتِ مسلمہ کے احیاء نو کا عمل شروع ہوتا ہے۔ ذیل کے مقالہ میں اسی اہم موضوع پر بحث کی گئی ہے۔

تشکیل جدید کیا ہے

"فکر اسلامی کی تشکیلِ جدید" سے کیا مراد ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں جو نئے فکری اور عملی مسائل پیدا ہوئے ہیں، ان کا ایسا جواب فراہم کیا جائے جس میں ایک طرف اسلام کے روح اور مزاج کی مکمل رعایت شامل ہو، دوسری طرف وہ جدید تقاضوں کو پوری طرح سمیٹے ہوئے ہو۔

فکر اسلامی کی تشکیل جدید کے موضوع پر موجودہ زمانہ میں بہت کچھ لکھا اور بولا گیا ہے۔ غالباً اس موضوع پر سب سے پہلے لکھنے والے اور اس کی طرف توجہ دلانے والے سید جمال الدین افغانی (۱۸۳۸ء۔ ۱۹۹۷ء) تھے۔ اسی طرح شیخ محمد عبدہ (مصر) سرسید احمد خان، سید امیر علی (انڈیا) اور نامق کمال (ترکی) وغیرہ کا نام اس سلسلہ میں لیا جا سکتا ہے، ان سب لوگوں نے اسلام کی تعبیر نو کی کوشش کی۔ اس کا دو مقصد تھا۔ ایک یہ کہ جدید خیالات کو اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ ثابت کرنا، اور اسی کے ساتھ مسلمانوں کو اطمینان دلانا کہ اسلام آج بھی ان کی رہ نمائی کی اہلیت رکھتا ہے : All undertook to reinterpret Islam with the dual purpose of accomodating modern ideas and outlooks within the framework of Islamic principles and at the same time ensuring to the Muslims that Islam was capable of a modern orientation. (9/924)

علامہ اقبال نے ۲۹۔ ۱۹۲۸ء کے درمیان مدراس، حیدر آباد، علی گڑھ میں چھ تفصیلی لکچر دیے تھے۔ یہ لکچر اصلاً اسی موضوع پر تھے ۔ چنانچہ ان کا مجموعہ چھپا تو اس کا نام رکھا گیا ۔ اسلام میں مذہبی افکار کی تنظیم جدید :

The Reconstruction of Religious Thought in Islam

‹ Previous page Next page › Contents of January 1996 All issues

Printed page