پیغمبر کی مثال
الرسالہ، اگست ۱۹۹۶، صفحہ ۱۶
پیغمبر کی مثال
غزوہ بدر کے ابتدائی واقعات میں سے ایک واقعہ ابن اسحاق نے اس طرح بیان کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر کرتے ہوئے تیزی سے بڑھے۔ آپ نے بدر کے قریب ایک چشمہ کے پاس پڑاؤ کیا۔ اس وقت الحباب بن المنذر بن الجموح نے کہا کہ اے خدا کے رسول، یہ مقام کیا ایسا ہے کہ یہاں اللہ نے آپ کو اتارا ہے جس میں ہمیں یہ اختیار نہیں کہ ہم اس سے آگے بڑھیں یا اس سے پیچھے ہٹیں ۔ یا کہ یہ ایک رائے ہے اور جنگی تدبیر ہے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ رائے اور جنگی تدبیر ہے (بل هو الراى والحرب والمكيدة)
انھوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، پھر تو یہ کو کوئی ٹھرنے کی جگہ نہیں (فان هذا ليس بمنزل) آپ یہاں سے روانہ ہو کر آگے چلے۔ ہم لوگ اس چشمہ کے پاس اتریں جو قریش کے قریب ہے۔ اور پھر پیچھے جتنے پانی کے گڑھے ہیں، ان کو ناکارہ کر دیں۔ اور وہاں ایک حوض بنا کر اس کو پانی سے بھر لیں۔ پھر ان لوگوں سے جنگ کریں ۔ تاکہ ہم پانی پئیں اور وہ نہ پئیں (فنضرب ولا يشربون) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ تم نے بہت ٹھیک رائے دی (نقد شورت با نرائی) اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے سب ساتھی اٹھ کر چلے۔ یہاں تک کہ جب قریش کے قریب ترین چشمہ کے پاس پہنچے تو وہاں اتر گئے۔ پھر دوسرے چشموں کے متعلق آپ نے حکم دیا تو وہ ناکارہ کر دیے گئے۔ جس چشمہ پر آپ اترے تھے اس پر حوض بنا کر اس کو پانی سے بھر لیا گیا (البدایة والنھایة ۲۶۷/۳)
اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں اظہار رائے کا کھلا ماحول ہوتا تھا۔ ایک شخص نے جب آپ کی رائے کے خلاف رائے دی تو اس کو برا نہیں مانا گیا اور نہ اس پر غصہ کیا گیا۔ اس کے برعکس صرف یہ پوچھا گیا کہ تمہاری مختلف رائے کیوں ہے جب اس نے وضاحت کی تو معلوم ہوا کہ اس کی رائے درست تھی۔ چنانچہ اس کی تعریف کی گئی اور فوراً اس کو قبول کر لیا گیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ لوگوں کو اختلاف رائے کا موقع دینا اور اس کو سن کر اس سے فائدہ اٹھانا بھی پیغمبر کی سنتوں میں ایک سنت ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1996 All issues