عثمان غنیؓ کی مثال
الرسالہ، اگست ۱۹۹۶، صفحہ ۱۹
عثمان غنیؓ کی مثال
حضرت ابو عبیدہ بن الجراح نے ایک روز حضرت عثمان سے بحث کی ۔ انھوں نے کہا کہ میں تین چیزوں میں آپ سے افضل ہوں۔ حضرت عثمان نے پوچھا کہ وہ کیا چیزیں ہیں حضرت ابو عبیدہ بن الجراح نے جواب دیا۔
اول یہ کہ بیعتِ رضوان (حدیبیہ) کے وقت میں حاضر تھا، اور آپ اس وقت غائب تھے۔ دوسرے یہ کہ میں بدر کے غزوہ میں شریک ہوا اور آپ نے اس میں شرکت نہیں کی۔ تیسرے یہ کہ غزوہ احد کے موقع پر میں ان لوگوں میں تھا جو ثابت قدم رہے اور آپ اس میں ثابت قدم نہ رہ سکے۔
راوی کہتے ہیں کہ حضرت عثمان اس پر غصہ نہیں ہوئے بلکہ یہ بولے کہ آپ نے سچ کہا (فلم يغضب عثمان ولكنه قال له صدقت)
پھر اپنا عذر بیان کرتے ہوئے حضرت عثمان نے کہا کہ جہاں تک بیعتِ رضوان کا معاملہ ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حاجت کے تحت مجھے مکہ بھیجا تھا۔ اور غزوہ بدر میں جو ہوا وہ یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی جگہ پر مدینہ میں مقرر فرمایا تھا۔ اور جہاں تک غزوہ احد میں میری پس پائی کی بات ہے تو اللہ نے مجھے میری اس کوتاہی کے لیے معاف کر دیا (العبقریات الاسلامیہ، صفحہ ۱۷۵)
اس واقعہ میں حضرت عثمان پر براہِ راست حملہ کیا گیا تھا۔ مذکورہ تینوں باتیں بظاہر ان کی شخصیت کو سخت مجروح اور مشتبہ کر رہی تھیں۔ مگر حضرت عثمان اتنی سخت بات کو سن کر بھی غصہ نہیں ہوئے ۔ انھوں نے ٹھنڈے طریقہ سے کہا کہ بطور واقعہ آپ کا کہنا بالکل درست ہے۔ پھر اس اعتراف کے بعد انھوں نے تینوں واقعہ کے بارہ میں اپنا نقطہ نظر بیان کیا۔ تینسرے خلیفہ راشد کے اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا طریقہ یہ ہے کہ انتہائی سخت تنقید کو بھی ٹھنڈے ذہن کے ساتھ سنا جائے ۔ اپنے آپ کو اشتعال سے بچاتے ہوئے سادہ طور پر اصل معاملہ کی وضاحت کی جائے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1996 All issues