بے جا غلو
الرسالہ، اگست ۱۹۹۶، صفحہ ۳۴
مذکورہ واقعہ سے جو چیز غلط یا قابل ترک قرار پاتی ہے وہ تنقید اور اختلاف نہیں ہے ۔ بلکہ غلو اور شدت پسندی ہے ، اور غلو ہر معاملہ میں برا ہوتا ہے ۔
تنقید کو بند کرو ، اختلاف رائے کو ختم کرو ، تاکہ امت میں اتحاد ہو سکے ۔ یہ جملہ قواعد کے اعتبار سے درست ہے ، گروہ حقیقت کے اعتبار سے بالکل بے معنی ہے۔ کیوں کہ تنقید و اختلاف انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہے ، اس لئے وہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا ۔ زیادہ صحیح اور قابل عمل بات یہ ہے کہ تنقید کو گوارا کرو، اختلاف رائے کو برداشت کرو تا کہ امت میں اتحاد ہو سکے کسی قوم میں اتحاد ہمیشہ اسی دوسرے اصول کی بنیاد پر ہوتا ہے ، اور امت مسلمہ میں بھی اتحاد اسی بنیاد پر ہو گا ۔ اس کے سوا اتحاد کی دوسری کوئی صورت نہیں ۔
صحابہ و تابعین کے درمیان اختلافات تھے ، اسی طرح محدثین، فقہاء، علماء، صوفیاء سب کے درمیان کثرت سے اختلافات تھے۔ حتی کہ قرآن سے ثابت ہے کہ دنیا میں بیک وقت دو پیغمبر ہوں تو ان کے درمیان بھی کبھی اختلاف ہو جاتا ہے ۔ ایسی حالت میں اختلاف کو ختم کر کے اتحاد قائم کرلے کی شرط نہ صرف غیر فطری ہے بلکہ وہ غیر شرعی بھی ہے ۔
تنقید و اختلاف کوئی برائی نہیں ۔ وہ فکری ارتقاء کا ذریعہ بنتی ہے ۔ مثال کے طور پر غزوۂ بدر کے موقع پر ایک صحابی نے پیغمبر سے اختلاف کیا۔ اس کے نتیجہ میں زیادہ بہتر میدان جنگ کا انتخاب ممکن ہو گیا ۔ وغیرہ ۔
اصل یہ ہے کہ انسان دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک طالب خویش اور دوسرا طالب حق ۔ طالب خویش اپنی ذات میں جیتا ہے۔ اس کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ اس کی اپنی شخصیت نمایاں ہو۔ اس کی بڑائی تسلیم کی جائے۔ یہی وہ آدمی ہے جو تنقید و اختلاف سے بھڑکتا ہے کیوں کہ وہ محسوس کرتا ہے کہ تنقید اس کی شخصی عظمت کو گھٹا رہی ہے۔
طالب حق کی نفسیات اس سے بالکل جدا ہوتی ہے۔ وہ صرف حق کا طالب ہوتا ہے۔ وہ تنقید کو اپنی ذات پر حملہ نہیں سمجھتا۔ وہ تنقید کو صرف اس نظر سے دیکھتا ہے کہ وہ حق ہے یا ناحق ۔ تنقید اگر غلط ہے تو وہ سادہ طور پر اسے نظر انداز کر دیتا ہے۔ لیکن تنقید اگر بر حق ہے تو وہ فوراً اس کو قبول کر لے گا۔ کیونکہ ایسی تنقید میں اس کو عین وہی چیز ملتی ہوئی نظر آئی جو پہلے سے اس کا مطلوب و مقصود تھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1996 All issues