جارجیت نہیں
الرسالہ، اگست ۱۹۹۶، صفحہ ۳۶
اس تحمل کا تعلق صرف سلطنت یا سیاسی اقتدار سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ ہر آدمی کی اپنی ایک دنیا ہوتی ہے، خواہ وہ سیاسی دائرہ میں ہو یا غیر سیاسی دائرہ میں، آپ انسان کی اس دنیا کو ٹھوکر نہ ماریں۔ بلکہ اپنا اختلاف تمام تر صرف دلائل پیش کرنے تک محدود رکھیں، اگر آپ ایسا کریں تو معاشرہ میں کوئی خلل واقع نہ ہوگا۔ البتہ اختلاف اس وقت خلل اندازی کے ہم معنی بن جاتا ہے جب آپ آدمی کی اپنی مخصوص دنیا کے ساتھ تصادم چھیڑ دیں۔
اختلاف کا صحیح اور فطری اصول یہ ہے کہ اختلاف کو صرف اختلاف کے دائرہ میں رکھا جائے، اس کو تصادم یا عملی جارحیت کے درجہ تک ہرگز پہنچنے نہ دیا جائے۔
ایک حاکم کے لیے عملی جارحیت یہ ہے کہ اختلاف کرنے والافکری اختلاف کی حد سے - گزر کر اس کے اقتدار سے ٹکرانا شروع کر دے۔ وہ اس کے قلب و دماغ کو مخاطب کرنے کے بجائے اس کے سیاسی وجود کو مٹانے پر تل جائے۔
ایک عام انسان کے لیے عملی جارحیت یہ ہے کہ آدمی سنجیدہ اختلاف کی حد پر نہ رکے بلکہ اس سے آگے بڑھ کر وہ زیر اختلاف شخص کی ذات کو مطعون کرنے لگے۔ وہ اس کی تذلیل و تحقیر کرے۔ وہ اس کو بدنام کرنے کی مہم چلائے۔ اس کی حیثیت عرفی کو بگاڑنے کی کوشش کرے۔ لوگوں میں اس کے خلاف نفرت پیدا کرے۔ اس کے اخلاقی قتل کی مہم چلائے۔ سازشی منصوبہ کے ذریعہ وہ اس کی تدبیر کرے کہ اس کے سماجی تعلقات ٹوٹ جائیں اور وہ اپنے ماحول میں اکیلا ہو کر رہ جائے۔
عملی جارحیت کیا ہے، اس کا تعین ہر آدمی کے اپنے حالات کے لحاظ سے کیا جائے گا۔ اصولی طور پر عملی جارحیت یہ ہے کہ آدمی کے دماغ سے اپیل کرنے کے بجائے خود اس کے وجود سے تصادم شروع کر دیا جائے۔ اس کو سنجیدہ دلائل سے قائل کرنے کے بجائے غیر سنجیدہ طریقوں سے اسے زیر کرنے کی کوشش کی جائے۔
آزادی ہر انسان کا فطری حق ہے۔ مگر اس حق کو استعمال کرنے کی لازمی شرط یہ ہے کہ آدمی اپنی آزادی کو تشدد اور جارحیت تک نہ لے جائے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1996 All issues