Al-Risala · August 1996 · page 47

فرقہ بندی

الرسالہ، اگست ۱۹۹۶، صفحہ ۴۷

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ وہ اللہ ہے جس نے تمہارے اوپر کتاب اتاری۔ اس میں کچھ بنتیں محکم ہیں، وہ کتاب کی اصل ہیں۔ اور دوسری آیتیں متشابہ ہیں۔ پس جن کے دلوں میں ٹیڑھ ہے وہ متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑجاتے ہیں، فتنہ کی تلاش میں اور اس کی تاویل کی تلاش میں۔ الّاں کہ ان کی تاویل اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور جو لوگ پختہ علم والے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم نا پر ایمان لائے، سب ہمارے رب کی طرف سے ہے۔ اور نصیحت وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں (آل عمران۷)

یہ آیت بتاتی ہے کہ غلط قسم کا غور و فکر کیا ہے۔ اور وہ کون سا غور و فکر ہے جو آدمی کو ہدایت ، طرف لے جانے والا ہے۔ اس آیت میں متشابہات سے مراد متماثلات ہے۔ یعنی تمثیل اسلوب لام۔ وہ باتیں جن کا تعلق غیبی حقیقتوں سے ہے ان کو قرآن میں تمثیل کی زبان میں بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً خدا کا ہاتھ تمثیل کی زبان ہے نہ کہ حقیقت کی زبان۔ اس طرح کی باتوں کو آدمی تعیین و تحدید کے ساتھ نہیں سمجھ سکتا۔ اس لیے ان معاملات میں صحیح یہ ہے کہ مجمل علم پر قناعت کی جائے۔ اس سے ہ جانے کی کوشش آدمی کو صرف فکری انتشار (confusion) تک پہنچائے گی۔ اور فکری انتشار ی کے اگلے نتیجہ کا نام گمراہی ہے۔

محکم سے مراد وہ آیتیں ہیں جو براہ راست زبان میں ہیں اور جن سے قطعی دلالت حاصل ہوتی ہے۔ یہ معلوم انسانی دائرہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان میں سنجیدہ غور و فکر سے آدمی کے علم و یقین میں اضافہ ہوتا ہے۔ وہ ہدایت کے راستہ پر بڑھتا چلا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر جبر و قدر کا جو مسئلہ ہے وہ پورا کا پورا تمابہات سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کے بارہ میں مجمل علم پر قانع رہنا ہی عقل کا تقاضا بھی ہے اور شریعت کا تقاضا بھی۔ اور یہی عین سائنسی نقطۂ نظر ہے۔

دوسری چیز وہ ہے جو عالم فطرت سے تعلق رکھتی ہے۔ یعنی زمین و آسمان میں پھیلی ہوئی نشانیوں پر غور کرنا۔ یہ غور و فکر عین مطلوب ہے۔ اس قسم کا غور و فکر آدمی کے یقین کو بڑھاتا ہے۔ اس کی روحانیت کو غذا فراہم کرتا ہے۔ اس کی شخصیت کو ربانی شخصیت بناتا ہے۔ اس کو وہ اعلیٰ انسان بنا دیتا ہے جس کو عام زبان میں حقیقت شناس اور مذہبی زبان میں خدا شناس کہا جاتا ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1996 All issues

Printed page