عزیمت کیا ہے
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۶، صفحہ ۱۸
نے اس پر اتفاق کر لیا کہ مسلم حکمرانوں کے خلاف خروج کرنا حرام ہے، خواہ وہ بظاہر فاسق اور ظالم کیوں نہ ہوں گےہیں۔
اس واضح اسلامی اصول کے باوجود مسلمانوں کا رہنما طبقہ صدیوں سے حکومتوں سے ٹکراؤ کرنے میں مصروف ہے۔ انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے عمل کی توجیہہ کرتا ہے۔ ان بنا پر ان مسلمانوں کے لیے اپنے عمل کی توجیہہ کرنا بھی ضروری تھا۔ وہ حقیقی دلائل کے ساتھ اپنے عمل کو جائز ثابت نہیں کر سکتے تھے۔ ان کے لیے ایک ہی ممکن راستہ تھا۔ اور وہ غلط استدلال تھا۔ چنانچہ انھوں نے اپنی پوری تفکیر غلط استدلال پر قائم کر دی۔
موجودہ زمانہ میں جو بے فائدہ جنگی کارروائیاں کی گئیں، ان سب کے لیے عزیمت کے لفظ سے جواز فراہم کیا گیا ہے۔ مگر یہ ایک غلط انتساب تھا، اسی لیے امت کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ملا۔ اس نے صرف امت کی تباہی میں اضافہ کیا۔ اس کے برعکس اگر عزیمت کو صابرانہ عزیمت کے مفہوم میں لیا جاتا تو اس کا زبردست فائدہ مسلمانوں کو حاصل ہوتا۔ جیسا کہ دورِ اول میں اسی قسم کی عزیمت کے ذریعہ اہل اسلام کو حاصل ہوا تھا۔
اگر لوگوں میں صابرانہ عزیمت کا مزاج ہوتا تو وہ نقصان اٹھانے کے باوجود منفی نفسیات میں مبتلا نہ ہوتے بلکہ حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے استحکام نو کی تدبیر کرتے۔ وہ مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے مواقع کو استعمال کرتے۔ وہ غیر ضروری طور پر وقار کی جنگ چھیڑنے کے بجائے حکمت کی روش اختیار کرتے۔ وہ سیاسی محرومی کو برداشت کرتے ہوئے جدید علوم کے شعبوں میں دستگاہ حاصل کرنے کے لیے اپنے آپ کو لگا دیتے۔
جنگی عزیمت انہیں صرف تباہی کی طرف لے گئی۔ صابرانہ عزیمت انہیں ترقی اور استحکام کی طرف لے جاتی۔ اگر سچی عزیمت کی یہ پالیسی اختیار کی جاتی تو پہلی ہی نسل میں وہ فائدہ مل جاتا جو کئی نسلوں کی قربانی کے باوجود ابھی تک ملتا ہوا نظر نہیں آتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1996 All issues