اسپین کی تاریخ برعکس صورت میں
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۶، صفحہ ۴۸
اس راز کو جانتے تو وہ کہتے کہ نئے حریف سے مقابلہ کرنے کے لیے علم کی قوت فراہم کرو۔ موجودہ زمانہ میں بعض سیکولر مسلمانوں نے مسلمانوں کو جدید علوم کے حصول کی طرف متوجہ کیا اور اس سلسلہ میں قرآن کی ان آیتوں کا حوالہ دیا جن میں علم کا ذکر ہے۔ لیکن ہمارے علماء نے یہ بحث چھیڑ دی کہ قرآن میں علم سے مراد علم دین ہے نہ کہ جدید طبیعی علوم جو یورپ کے راستہ سے آ رہے ہیں۔ ہمارے علماء کم از کم دو سو سال تک اس غیر متعلق بحث میں الجھے رہے یہاں تک کہ مسلم قوم علوم جدیدہ میں ساری دنیا سے پچھڑ گئی۔
ہمارے علماء اجتہاد کا دروازہ بند کر کے اگر اپنے آپ کو مجتہدانہ بصیرت سے محروم نہ کر چکے ہوتے تو وہ کہہ سکتے تھے کہ جدید علوم کی اہمیت اگر چہ قرآن کی آیتِ علم سے نہیں نکلتی مگر وہ قرآن کی آیت قوت سے پوری طرح نکل رہی ہے۔ یہ علوم دورِ جدید کی قوت ہیں اس لیے قرآن کے حکم (اعداد قوت) کے مطابق ، ہمیں چاہیے کہ ان کو بھر پور طور پر حاصل کریں۔
موجودہ زمانہ میں ایک عجیب مظہر یہ دکھائی دیتا ہے کہ وہ مسلمان جو دورِ زراعت میں دنیا کی امامت کر رہے تھے وہ دورِ صنعت میں ایک پچھڑا ہوا گروہ بن کر رہ گئے ۔ اس مظہر کی توجیہہ عام طور پر صرف ایک کی جاتی ہے اور وہ یہ کہ یہ المیہ صلیبیوں اور صہیونیون کی سازش کی بنا پر پیش آیا ہے۔ اسی ذہن کی ترجمانی کرتے ہوئے ۸۰ سال پہلے شبلی نعمانی نے کہا تھا :
کہاں تک لو گے ہم سے انتقام فتح ایوبی دکھاؤ گے ہمیں جنگ صلیبی کا سماں کب تک آج بھی مسلمانوں کے تمام اخبار و رسائل خواہ وہ اردو کے ہوں یا عربی کے یا کسی اور زبان کے، سب کے سب ” نظریہ سازش“ کی تفصیلات سے بھرے رہتے ہیں۔ مگر یہ نظریہ نہ صرف لغو ہے بلکہ وہ قرآن کی تردید کے ہم معنی ہے۔ کیونکہ قرآن میں صاف طور پر اعلان کیا گیا ہے کہ اس دنیا میں آدمی جو کچھ بھگتتا ہے وہ صرف اس کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے۔
اس پس ماندگی کا واحد سبب جدید علوم میں مسلمانوں کا پچھڑاپن ہے۔ مسلمان جدید علوم میں پیچھے ہو گئے ، اس لیے وہ جدید صنعت میں بھی پیچھے ہو گئے ، اور جدید صنعت میں پیچھے ہونے کے نتیجہ میں وہ دورِ جدید کے ہر شعبہ میں پچھڑ کر رہ گئے۔ کیوں کہ موجودہ زمانہ میں تمام چیزوں کا تعلق علم سے ہو گیا ہے۔ (باقی)
‹ Previous page Next page › Contents of January 1996 All issues