Al-Risala · November 1996 · page 18

میرٹھ کا سفر

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۶، صفحہ ۱۸

سردھنہ کے سید برہان الدین صاحب (ایم اے معاشیات) کی عمر اب 65 سال ہو چکی ہے انھوں نے پاکستان سمیت بہت سے ملکوں کا سفر کیا ہے۔ انھوں نے اپنے مشاہدات بتاتے ہوئے کہا: مسلمانوں کو نہ یہود سے خطرہ ہے، نہ عیسائیوں سے اور نہ ہندوؤں سے۔ مسلمانوں کو خطرہ صرف اپنی ذات سے ہے۔ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا گلا کاٹنے کے لیے تیار رہ ہے۔ یہی موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی تباہی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

مجلس میں کئی لوگ موجود تھے۔ میں نے سوال کیا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی خامہ کمزوری کیا ہے جس نے انھیں دوسری قوموں سے پیچھے کر دیا۔ مولانا محمد رضوان قاسمی نے کہا میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ اس کا سبب شعور کی کمی ہے "یہ دور مقابلہ کا دور ہے۔ مگر مسلمان اپنی بے شعوری کی وجہ سے اس راز کو سمجھ نہ سکے۔ وہ بس دوسروں کی شکایت کرنے میں اپنا وقت ضائع کرتے رہے۔

ایک صاحب نے کہا کہ الرسالہ میں زیادہ تر غیر مسلموں کی باتیں ہوتی ہیں۔ میں نے کہا کہ بات آپ تجربہ کے تحت نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ کسی سے سن کر کہہ رہے ہیں۔ پھر میں نے کہا کہ اپنے پاس سے کوئی رسالہ نکال لیلیے۔ یہ بات خود ان کے گھر پر ہو رہی تھی۔ چنانچہ وہ گھر کے اندر سے اس کی ورق گردانی کی تو اس میں غیر مسلموں کے دو حوالے تھے۔ مثلاً صفحہ 8 پر پر وفیسر مارگولیتھ کا وہ حوالہ جس میں انھوں نے اصحابِ رسول کو ہیروز کی قوم کہا ہے۔ میں نے کہا کہ الرسالہ میں غیر مسلموں کے حوالے غیر مسلموں کے خیالات کی تبلیغ کے لیے نہیں ہوتے، اور اسلام کی صداقت بیان کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ عربی زبان کا ایک مثل ہے کہ فضیلت وہ ہے جس کی گواہی دشمن دیں (الفضل ما شهدت به الاعداء)

میں نے کہا کہ اس اعتبار سے غیر مسلموں کا حوالہ تو ایک خوبی کی بات ہے، اور ماضی سے لے کر حال تک کے تمام علماء اسلام اس قسم کے حوالے دیتے رہے ہیں۔ پھر یہ تو خوشی کی بات ہے، نہ یہ کہ اس پر اعتراض کیا جائے۔

سردھنہ میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً ۳۰ ہزار ہے۔ مگر ان کا اپنا کوئی قابلِ ذکر تعلیمی ادارہ

‹ Previous page Next page › Contents of November 1996 All issues

Printed page