Al-Risala · November 1996 · page 21

میرٹھ کا سفر

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۶، صفحہ ۲۱

اعمال ہے۔ دعا گویا خزانہ قدرت تک ایک انسان کی رسائی ہے۔ دعا جب اپنے کمال پر پہنچتی ہے تو انسان کا سینہ تجلیاتِ الہی کا ہبط بن جاتا ہے۔ یہ دعا جب وجود میں آتی ہے تو کسی انسان کے لیے وہ لمحہ آجاتا ہے جس کی بابت حضرت مسیح نے فرمایا : مانگو تو پاؤ گے ، دروازہ کھٹکھٹاؤ تو تمہارے واسطے کھولا جائے گا۔

ایک صاحب نے اپنا قصہ بتایا کہ سڑک پر میں ایک سواری کی زد میں آکر گر پڑا اور بیہوش ہو گیا۔ اٹھا تو میں اسپتال میں تھا۔ معلوم ہوا کہ کچھ ہندوؤں نے مجھ کو زخمی حالت میں دیکھا تو فوراً اپنی گاڑی میں لٹاکر انھوں نے مجھے اسپتال پہنچایا اور میری ہر طرح مدد کی۔ یہ قصہ بتاکر انھوں نے کہا : انسانیت ابھی زندہ ہے۔ شر پسندوں میں کچھ خیر پسند بھی موجود ہیں۔

میں نے کہا کہ بہت سے مسلمانوں کے ساتھ اس طرح کے واقعات پیش آتے ہیں۔ وہ جب ان واقعات کو بیان کرتے ہیں تو ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ انسانیت ابھی زندہ ہے۔ اس کا مطلب بظاہر یہ ہوتا ہے کہ بروں کی بھیڑ میں کچھ اچھے افراد بھی ہیں۔ مگر یہ صحیح بات نہیں۔ فرقہ وارانہ عادات کی بنا پر ہم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ غیر مسلم سب ہمارے دشمن ہو گئے ہیں۔ اگر کوئی دشمن نہیں ہے تو وہ استثناء ہے۔

صحیح بات یہ ہے کہ ہر آدمی فطرت کے اعتبار سے خیر پسند ہے۔ ہر ایک کے اندر انسانیت موجود ہے۔ فسادات کا سبب دشمنی نہیں۔ فسادات کا سبب وقتی اشتعال ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ کچھ جذباتی قسم کے لوگ اپنی کسی نادانی سے ایک بھیڑ کے نفس امارہ کو جگا دیتے ہیں۔ اور وہ بھڑک کر فساد پر اتر آتے ہیں۔ اگر ہم اپنے جذباتی لوگوں میں صبر و تحمل کی صفت پیدا کر دیں تو اس ملک سے ہمیشہ کے لیے فسادات کا خاتمہ ہو جائے ۔ اور ہر آدمی خیر پسند دکھائی دینے لگے۔ ایک نوجوان نے کہا کہ مجھے کوئی نصیحت کیجئے۔ میں نے اس کی ڈائری میں حسب ذیل نصیحت لکھ دی : زندگی کا راستہ ہموار راستہ نہیں۔ یہاں اونچ نیچ دونوں ہی آتے ہیں۔ کامیاب وہ ہے جو اتار چڑھاؤ کو دیکھ کر ہمت نہ ہارے، جو ہر حال میں یکساں عزم کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھے ۔

۱۱ اپریل کو عشاء کی نماز سردھنہ کی جامع مسجد میں پڑھی۔ یہاں نماز کے بعد تقریر کا پروگرام

‹ Previous page Next page › Contents of November 1996 All issues

Printed page