بے ضرر ہونا
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۹
بے ضرر ہونا
حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : المسلم من سلم المسلمون من لسانه ویدہ (البخاری) یعنی مسلمان وہ ہے جس کی زبان سے اور جس کے ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں۔ یہی بات دوسری روایت میں اس طرح آئی ہے کہ : المسلم من سلم الناس من لسانه (احمد) یعنی مسلمان وہ ہے جس کی زبان (اور جس کے ہاتھ) سے لوگ محفوظ رہیں۔
ان دونوں روایتوں میں سے ایک میں "مسلم" کا لفظ ہے اور دوسری میں "لوگ" کا، مگر دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ یہ ایک عام ادبی اسلوب ہے کہ کبھی کلام میں لفظی اعتبار سے بظاہر خصوص ہوتا ہے مگر اس سے عموم مراد ہوتا ہے، اور کبھی باعتبار الفاظ عموم ہوتا ہے اور اس سے خصوص مراد ہوتا ہے۔ یہ اسلوب بہت سی حدیثوں میں پایا جاتا ہے۔ مثلاً ایک روایت ہے کہ المسلم اخو المسام (البخاری) یعنی ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ یہی بات دوسری جگہ ان الفاظ میں ہے : إن العباد كلهم إخوة (ابو داؤد) یعنی تمام انسان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ مسلم وہ ہے جو اپنے آپ کو خدا کے سپرد کر دے۔ جو خدا کی عظمتوں کا اس طرح ادراک کرے کہ اپنا وجود اس کو ہر اعتبار سے غیر عظیم دکھائی دینے لگے۔ ایسے انسان کے اندر جو اخلاقیات پیدا ہوتی ہیں اسی کا ایک پہلو وہ ہے جو مذکورہ حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔ ایسا انسان ہر لمحہ اپنے آپ کو خدا کی نگرانی میں محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہ احساس اس کے اندر ایسی شخصیت کی تخلیق کرتا ہے جو دوسروں کے لیے کامل طور پر بے ضرر ہو۔ اس کی زبان کسی کے خلاف نہیں کھلتی۔ اس کے ہاتھ سے کسی کو دکھ کا تجربہ نہیں ہوتا۔ وہ گویا اس کے لیے نااہل ہو جاتا ہے کہ اس کی طاقت اور صلاحیت کبھی بھی اور کسی حال میں بھی کسی کے خلاف استعمال ہو۔ مومن و مسلم انسان کسی کے لیے مسئلہ نہیں بنتا اور نہ کسی کو تکلیف پہنچاتا۔ خدا کی عظمت و جلال کا احساس اس کو ایک ایسے درخت کی مانند بنا دیتا ہے جس کا کانٹا توڑ دیا گیا ہو اور اب اس میں صرف پھول ہی پھول باقی رہ جائیں۔
مومن وہ ہے جو لوگوں کے درمیان نو پرابلم انسان بن کر رہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1996 All issues