Al-Risala · December 1996 · page 11

خاموشی کی طاقت

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۱۱

خاموشی کی طاقت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں حدیث میں آتا ہے کہ آپ دیر دیر تک خاموش رہتے تھے : فکان طویل الصمت (مسند احمد) آپ نے فرمایا کہ تم لوگ خاموشی کا طریقہ اختیار کرو: فعلیکم بالصمت (الدارمی، الترمذی، الدارمی، مسند احمد میں ہے آپ نے فرمایا کہ جو شخص چپ رہا اس نے نجات پائی (من صمت نجا)

یہ حدیث جوامع الکلم میں سے ہے۔ اس کے بہت سے پہلو ہیں۔ ایک اہم پہلو یہ ہے جو طریق کار سے تعلق رکھتا ہے۔ اس اعتبار سے اس کا مطلب یہ ہے کہ شور وغل کا طریقہ اختیار کرنے والا اس دنیا میں ناکام و نامراد رہتا ہے۔ اور جو آدمی خاموش تدبیر کا طریقہ اختیار کرے، اس کو یہ خوش قسمتی حاصل ہوگی کہ قوانین فطرت اس کا ساتھ دیں گے اور وہ کامیابی کی مطلوبہ منزل تک پہنچ کر رہے گا۔

لاویٹر (Johann Kaspar Lavater) ۱۷۴۱ء میں زیورک میں پیدا ہوا، ۱۸۰۱ء میں وہیں اس کی وفات ہوئی۔ فطرت کے اسی قانون کو اس نے ان الفاظ میں بیان کیا کہ وہ شخص بولنا نہیں جانتا جو چپ نہیں رہ سکتا۔ وہ اس سے اور بھی کم واقف ہے کہ زیادہ مؤثر طور پر کوئی کام کس طرح کیا جائے :

He knows not how to speak who cannot be silent; still less how to act with vigor and decision. چپ رہنے والا سوچتا ہے، اور جو آدمی سوچے وہی اس لائق ہوتا ہے کہ بہتر اور مؤثر انداز میں کام کر سکے۔ اسی طرح جو آدمی چپ رہتا ہے وہ اپنے ذہن میں اپنے عمل کا نقشہ بناتا ہے۔ وہ منصوبہ بند انداز میں اپنے عمل کا خاکہ تیار کرتا ہے، اور جو آدمی منصوبہ بند صورت میں اپنا عملی اقدام کرے ، اس کا یہ فطری حق ہے کہ خدا کی اس دنیا میں وہ لازماً کامیاب ہو۔ خاموشی زیادہ بہتر کلام ہے۔ خاموشی زیادہ گہرے انداز میں عمل کرنا ہے۔ خاموش رہنے والا اس قابل ہوتا ہے کہ وہ اپنی قوتوں کو زیادہ نتیجہ خیز طور پر استعمال کر سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1996 All issues

Printed page