با اصول زندگی
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۷، صفحہ ۸
با اصول زندگی
مومن ایک با اصول انسان ہوتا ہے ۔ اس کے معاملات اصولوں کے تحت ہوتے ہیں نہ کہ محض مفاد کے تحت۔ وہ جو کچھ کرتا ہے اس لیے کرتا ہے کہ باعتبار اصول اس کو ایسا ہی کرنا چاہیے نہ یہ کہ اس کی خواہش یا اس کا فائدہ تقاضا کرتا ہے کہ ایسا کیا جائے۔ مومن کے کہنے اور کرنے میں فرق نہیں ہوتا۔ وہ جو کچھ کہتا ہے وہی کرتا ہے۔ اور جو کرتا ہے وہ وہی ہوتا ہے جو اس نے کہا ہے۔ اس کی زندگی اس کمزوری سے مکمل طور پر پاک ہوتی ہے جس کو قول و عمل کا تضاد کہا جاتا ہے۔
اس بنا پر مومن سے معاملہ کرنا نہایت آسان ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ صاحب معاملہ کو پیشگی طور پر یہ یقین ہوتا ہے کہ مومن جو قول دے گا وہ لازمی طور پر اس کی تعمیل کرے گا۔ وہ وہی بات کہے گا جس کو اسے فی الواقع کرنا ہے۔ اور جو کام کرنے کے لیے وہ سنجیدہ نہیں ہے اس کو وہ اپنی زبان سے بھی نہیں دہرائے گا۔
مومن کی شخصیت کا یہ پہلو اس کے پورے وجود کی شناخت بن جاتی ہے۔ اس کا چہرہ اصول پسندی کی روشنی سے منور ہوتا ہے۔ اس کی باتوں میں اصول پسندی کی خوشبو بسی ہوئی ہوتی ہے۔ اس کا کردار سراپا اصول پسندی کاکردار ہوتا ہے۔ جب بھی کسی انسان کو اس سے سابقہ پیش آتا ہے تو ہر تجربہ میں اس کو اصول پسندی کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ خواہ وہ چھوٹا تجربہ ہو یا کوئی بڑا تجربہ۔ عام لوگ اپنے ذاتی فائدوں کی خاطر جیتے ہیں۔ اس کے برعکس مومن محکم اصولوں کے تحت جیتا ہے۔ ایک عام انسان اگر مسٹر انٹرسٹ ہوتا ہے تو مومن اس کے بجائے مسٹر پرنسپل۔ انسان تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ اشرف مخلوق ہے۔ اس اعتبار سے وہی شخص انسان کہے جانے کے قابل ہے جو با اصول ہو۔ جو شخص بے اصولی کی زندگی گزارے وہ دراصل انسان ہی نہیں، اگرچہ وہ بظاہر انسان کی صورت میں دکھائی دیتا ہو۔
اصول پسند انسان ہی حقیقی معنوں میں انسان ہے ۔ اور اسی حقیقی انسان کا دوسرا نام مومن ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1997 All issues