Al-Risala · January 1997 · page 13

داعی کی ذمہ داری

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۷، صفحہ ۱۳

جو علم مجھے عطا کیا ہے، پوری امانت داری کے ساتھ عین وہی علم میں تم کو پہنچارہاہوں۔ مخاطب قوم کے لیے ناصح بننے کا معیار قرآن میں یہ بتایا گیا ہے کہ داعی اپنی مدعو قوم سے کسی بھی قسم کے اجر کا طالب نہ ہو۔ پیغمبر نے اپنی قوم سے کہا: یا قوم لا اسئلکم علیہ اجراً (ھود ۵۱) یہ بے حد اہم بات ہے۔ کیوں کہ داعی اگر اپنے مدعو سے کسی بھی قسم کا اجر چاہے تو اس کی خیر خواہانہ حیثیت مشتبہ ہوجائے گی۔ امین ثابت ہونے کا معیار یہ ہے کہ داعی اپنے مدعو سے وہی کہے جو اس کو خدا کی طرف سے ملا ہے۔ اس میں کسی بھی قسم کی کمی یا بیشی یا تبدیلی نہ کرے۔ قرآن میں ہے کہ پیغمبر نے اپنی قوم سے کہا : انی رسول من رب العالمین۔ حقيق على ان لا اقول على ٱللَّهِ الا الحق (الاعراف ۱۰۵) مجھ پر واجب ہے کہ میں خدا پر نہ لگاؤں مگر وہی بات جو واقعہ ہے۔ یعنی خدا کی طرف سے ٹھیک ٹھیک پیغام رسانی کروں۔

امین اور ناصح ـــــــ یہ دو لفظ داعی کی پوری شخصیت کو بتاتے ہیں۔ داعی کی ساری کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ دین خدا کے معاملہ میں پوری طرح امین بنے، اور مدعو کی نسبت سے وہ پوری طرح اس کا خیر خواہ ثابت ہو۔ ان دونوں ذمہ داریوں میں سے کسی ایک میں بھی اگر کمی واقع ہو تو دعوت کا عمل حقیقی طور پر انجام پانا ناممکن ہوجائے گا۔

دین خدا کے معاملہ میں امین بننے کے لیے اس کو ایسا ذہن بنانا ہے جو ہر قسم کے تعصب سے پاک ہو، تاکہ وہ دین کو اس کی صحیح صورت میں سمجھ سکے۔ اور مدعو یا خدا کے بندوں کے معاملہ میں اس کو انتہائی حد تک صابر و شاکر بننا ہے تاکہ لوگوں کی طرف سے زیادتی کا تجربہ ہو تب بھی وہ خیر خواہی اور ہمدردی کی روش سے نہ ہٹے ۔ وہ لوگوں کے رد عمل سے بے نیاز ہو کر ان کی اصلاح و نجات کا حریص بنا رہے۔ قيادت نامه حديث رسول الربانية حیات بشری کا ربانی طریقہ مولاناوحید الدین خاں

‹ Previous page Next page › Contents of January 1997 All issues

Printed page