Al-Risala · April 1997 · page 20

زکوٰۃ

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۷، صفحہ ۲۰

زکوٰۃ

زکوٰۃ سے مراد وہ متعین رقم ہے جو ایک مال والا آدمی اپنے مال میں سے سال کے آخر میں نکالتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے کمائے ہوئے مال کو پاک کرتا ہے۔ ایک جزئی حصہ کو خدا کی راہ میں دے کر بقیہ حصہ کو وہ اپنے لیے جائز طور پر قابل استعمال بنا لیتا ہے۔ اپنی کمائی میں سے زکوٰۃ کی رقم نکالنا اس بات کا عملی اعتراف ہے کہ اصل دینے والا خدا ہے۔ جب دینے والا خدا ہے تو بندے کو چاہیے کہ اس کے دیے ہوئے میں سے خدا کی راہ میں خرچ کرے ۔

زکوٰۃ کا قانون یہ ہے کہ مال والوں سے لے کر اس کو بے مال والوں میں دینا۔ یہ دولت کی گردش میں پیدا ہونے والی نابرابری کو دوبارہ برابر کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ اس طرح مال والوں کو یاد دلایا جاتا ہے کہ تمہارے اوپر ان لوگوں کا مالی حق ہے جن کو تقسیم میں کم حصہ ملا یا سرے سے کچھ نہیں ملا۔

زکوٰۃ کا تعلق اخلاقیات سے بھی جڑا ہوا ہے۔ زکوٰۃ ایک طرف دینے والے کے اندر سے بخل اور خود غرضی کے جذبات کو نکالتی ہے، وہ دینے والے کے دل میں فیاضی اور انسان دوستي کی روح پیدا کرتی ہے۔

دوسری طرف پانے والے کے لیے زکوٰۃ کا فائدہ یہ ہے کہ دوسروں کو وہ اپنا بھائی اور غم گسار سمجھنے لگے۔ دوسروں کے بارے میں اس کے دل میں حسد کے جذبات نہ ابھریں۔ بلکہ اس کے بجائے اس کے دل میں دوسروں کے لیے محبت کے جذبات پیدا ہوں۔ یہ زکوٰۃ چوں کہ اللہ کی راہ میں نکالی جاتی ہے اسی لیے وہ دوسری عبادتوں کی طرح ایک عبادت ہے۔ بظاہر وہ انسانوں کے درمیان تقسیم کی جاتی ہے، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ انسان کو خدا سے جوڑنے والی ہے، وہ انسان کو خدا سے قریب کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔

زکوٰۃ اپنی اسپرٹ کے اعتبار سے عبادت ہے اور اپنی خارجی تعمیل کے اعتبار سے خدمت۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1997 All issues

Printed page