پڑوسی
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۷، صفحہ ۳۰
پڑوسی
پڑوسی کسی انسان کا سب سے قریبی ساتھی ہے۔ گھر کے انسداد کے بعد کسی انسان کا سابقہ سب سے پہلے جن لوگوں سے پیش آتا ہے، وہ اس کے پڑوسی ہیں۔ پڑوسی کو خوش رکھنا، اس سے اچھا تعلق قائم کرنا، خدا پرستانہ زندگی کا ایک اہم پہلو ہے۔
پڑوسی خواہ اپنے مذہب کا ہو یا غیر مذہب کا، خواہ اپنی قوم کا ہو یا دوسری قوم کا، وہ ہر حال میں قابلِ لحاظ ہے۔ ہر حال میں اس کا وہ حق ادا کیا جائے گا جو شریعت اور انسانیت کا تقاضا ہے۔
حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا کی قسم وہ مومن نہیں ہے، خدا کی قسم وہ مومن نہیں ہے، خدا کی قسم وہ مومن نہیں ہے جس کی برائیوں سے اس کا پڑوسی امن میں نہ ہو۔ اس حدیث کے مطابق ، کوئی مسلمان اگر اپنے پڑوسی کو ستائے وہ اس طرح رہے کہ اس کے پڑوسی کو اس سے تکلیف پہنچے۔ وہ اپنے پڑوسی کے لیے دل آزاری کا سبب بن جائے تو ایسے مسلمان کا ایمان و اسلام ہی مشتبہ ہو جائے گا۔
کسی آدمی کی انسانیت اور اس کے دینی جذبہ کی پہلی کسوٹی اس کا پڑوسی ہے۔ پڑوسی اس بات کی پہچان ہے کہ آدمی کے اندر انسانی جذبہ ہے یا نہیں اور یہ کہ وہ اسلامی احکام کے بارہ میں حساس ہے یا غیر حساس۔
کسی آدمی کا پڑوسی اس سے خوش ہو تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ آدمی صحیح آدمی ہے۔ اور اگر اس سے اس کا پڑوسی ناخوش ہو تو یہ اس بات کا ثبوت ہو گا کہ وہ آدمی صحیح نہیں۔ پڑوسی کے سلسلہ میں شریعت کے جو احکام ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے پڑوسی کی یک طرفہ طور پر رعایت کرے۔ وہ پڑوسی کے رویہ کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کے ساتھ حسن سلوک کی کوشش کرے۔
اچھا پڑوسی بننا خود آدمی کے اچھے انسان ہونے کا ثبوت ہے۔ ایسے ہی انسان کو خدا اپنی رحمتوں میں حصہ دار بنائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1997 All issues