Al-Risala · June 1997 · page 14

خدا کی نعمتیں

الرسالہ، جون ۱۹۹۷، صفحہ ۱۴

خدا کی نعمتیں

قرآن کی سورہ نمبر ابراہیم میں ارشاد ہوا ہے ـــــ اللہ وہ ہے جس نے آسمان اور زمین بنائے اور آسمان سے پانی اتارا۔ پھر اس سے مختلف پھل نکالے تمہاری روزی کے لیے۔ اور کشتی کو تمہارے لیے مسخر کر دیا کہ سمندر میں اسی کے حکم سے چلے۔ اور اس نے دریاؤں کو تمہارے لیے مسخر کیا۔ اور اس نے سورج اور چاند کو تمہارے لیے مسخر کر دیا کہ برابر چلے جا رہے ہیں۔ اور اس نے رات اور دن کو تمہارے لیے مسخر کر دیا اور اس نے تم کو ہر چیز میں سے دیا جو تم نے مانگا۔ اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گنو تو تم گن نہیں سکتے۔ بیشک انسان بہت بے انصاف اور بڑا ناشکرا ہے (ابراہیم ۳۴-۳۲)

موجودہ دنیا انتہائی حیرت ناک حد تک خدا کی گواہی دے رہی ہے۔ وسیع خلا میں ستاروں اور سیاروں کی گردش، پانی کے ذریعہ زمین پر زندگی اور رزق کی فراہمی، خشکی اور تری اور فضا پر انسان کویہ قدرت ہونا کہ وہ ان میں اپنی سواریاں دوڑائے ، دریاؤں اور پہاڑوں کے ذریعہ زمین کا انسان کے موافق ہو جانا۔ سورج اور چاند کے ذریعہ موسموں کا اور رات دن کا انتظام، سب کچھ اس سے زیادہ عظیم ہے کہ ان کو لفظوں میں بیان کیا جاسکے۔ انسان اور کائنات میں اتنی کامل مطابقت ہے کہ انسان کی ہر قابل قیاس یا ناقابل قیاس ضرورت پیشگی طور پر یہاں بافراط موجود ہے۔ یہ تمام چیزیں اتنی زیادہ عجیب ہیں کہ آدمی کو ہلا دیں اور اس کو عبدیت کے جذبے سے سرشار کر دیں۔ اس کے باوجود ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ کائنات کو دیکھ کر آدمی کے اندر استعجاب کی کیفیت پیدا ہو۔ خالق کائنات کے تصور سے اس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی پیدا ہوتے ہی کائنات کو دیکھتا ہے ۔ دیکھتے دیکھتے وہ اس کو ایک عام چیز معلوم ہونے لگتی ہے۔ اس میں اسے کوئی انوکھا پن نظر نہیں آتا۔

مزید یہ کہ اس دنیا میں آدمی کو جب کوئی چیز ملتی ہے تو وہ بظاہر اس کو اسباب کے تحت ملتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اس بنا پر وہ سمجھ لیتا ہے کہ جو چیز اس کو ملی ہے وہ اس کی اپنی محنت اور صلاحیت کی بنا پر ملی ہے یہی وجہ ہے کہ آدمی کے اندر دینے والے خدا کے لیے شکر کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا۔

انسان کی یہی وہ غفلت ہے جس کو یہاں بے انصافی اور ناشکر گزاری سے تعبیر کیا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1997 All issues

Printed page