وصیت انسان
الرسالہ، جون ۱۹۹۷، صفحہ ۲۱
وصیت انسان
قرآن کی سورہ نمبر ۳۱ میں ارشاد ہوا ہے ۔ اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے معاملہ میں تاکید کی۔ اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اس کو پیٹ میں رکھا۔ اور دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہوا ۔ کہ تو میرا شکر کر اور اپنے والدین کا۔ میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ اور اگر وہ دونوں تجھ پر زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ ایسی چیز کو شریک ٹھہرائے جو تجھ کو معلوم نہیں تو ان کی بات نہ ماننا اور دنیا میں ان کے ساتھ نیک برتاؤ کرنا۔ اور تم اس شخص کے راستہ کی پیروی کرنا جس نے میری طرف رجوع کیا۔ پھر تم سب کو میرے پاس آنا ہے۔ پھر میں تم کو بتا دوں گا جو کچھ تم کرتے رہے (لقمان ۱۵-۱۴)
خدا کے بعد انسان کے اوپر سب سے زیادہ حق ماں باپ کا ہے ۔ البتہ اگر ماں باپ کا حکم خدا کے حکم سے ٹکرائے تو اس وقت خدا کا حکم لینا ہے اور ماں باپ کا حکم چھوڑ دینا ہے۔ تاہم اس وقت بھی یہ ضروری ہے کہ ماں باپ کی خدمت کو بدستور جاری رکھا جائے ۔
خدا کے سلسلہ میں انسان کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اس کا شکر کرے ۔ وہ دل کی تمام گہرائیوں کے ساتھ، خدا کی خدائی کا اعتراف کرے۔ اس کے تمام جذبات اور احساسات خدا کی نعمتوں کے اعتراف میں سرشار ہو جائیں ۔ یہاں تک کہ وہ ہر لمحہ خدا کی یاد کرنے لگے ، اس کا وجود سراپا خدا وند ذو الجلال کا تذکرہ بن جائے ۔
ماں باپ کے سلسلہ میں انسان کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ان کے حقوق ادا کرے۔ وہ ان کو عزت دے ۔ وہ ہمیشہ ان کے مقابلہ میں نرمی کے ساتھ بولے۔ وہ ان کی ضرورتوں کو پورا کرے۔ وہ کامل معنوں میں ان کا خدمت گزار بن جائے ۔
اگر والدین کے حکم اور خدا کے تقاضوں میں ٹکراؤ ہو تو اس وقت انسان پر لازم ہے کہ وہ خدا کی طرف سے آنے والے تقاضوں کو پورا کرے۔ ایسے وقت میں انسان پر والدین کے حکم کی پیروی ضروری نہیں، تاہم اس وقت بھی والدین کے ساتھ نرمی ہی کا معاملہ کرنا ضروری ہوگا۔ اخلاقی ذمہ داری کسی حال میں انسان سے ساقط نہیں ہوتی۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1997 All issues