Al-Risala · June 1997 · page 30

مقصد حیات

الرسالہ، جون ۱۹۹۷، صفحہ ۳۰

مقصد حیات

قرآن کی سورہ نمبر ۵۱ میں ارشاد ہوا ہے ـــــ اور میں نے جن اور انسان کو صرف اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ میں ان سے رزق نہیں چاہتا۔ اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھ کو کھلائیں۔ بیشک اللہ ہی روزی دینے والا ہے، زور آور، زبردست ہے۔ پس جن لوگوں نے ظلم کیا ان کا ڈول بھر چکا ہے جیسے ان کے ساتھیوں کے ڈول بھرے تھے۔ پس وہ جلدی نہ کریں۔ پس منکروں کے لیے خرابی ہے ان کے اس دن سے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے (الذاریات ۶۰-۵۶)

خدا ہر قسم کا ذاتی اختیار رکھتا ہے۔ تاہم فرشتوں کو اس نے اپنی وسیع سلطنت کا انتظام کرنے کے لیے پیدا کیا ہے۔ مگر انسانوں کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انسان اس لیے پیدا نہیں کیے گئے کہ وہ خدا کی کسی شخصی یا انتظامی ضرورت کو پورا کریں۔ ان کی پیدائش کا واحد مقصد خدا کی عبادت ہے۔ عبادت کا مطلب اپنے آپ کو خدا کے آگے جھکانا ہے۔ اپنے آپ کو پوری طرح خدا کا پرستار بنا دینا ہے۔ اس عبادت کا خلاصہ معرفت ہے۔ چنانچہ ابن جریج نے الا لیعبدون کی تشریح الا ليعرفون کی ہے۔ (تفسیر ابن کثیر) یعنی انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ خدا کو بطور دریافت کے پائے۔ وہ بن دیکھے خدا کو پہچانے۔ اسی کا نام معرفت ہے۔ اس معرفت کے نتیجہ میں آدمی کی جو زندگی بنتی ہے اسی کو عبادت و بندگی کہا جاتا ہے۔

پانی کا ڈول بھرنے کے بعد ڈوب جاتا ہے۔ اسی طرح آدمی کی مہلت عمل پوری ہونے کے بعد فوراً اُس کی موت آ جاتی ہے۔ جو شخص ڈول بھرنے سے پہلے اپنی اصلاح کر لے اس نے اپنے آپ کو بچایا۔ اور جو شخص آخر وقت تک غافل رہا وہ ہلاک ہو گیا۔

ظالم لوگ اگر پکڑے نہ جا رہے ہوں تو انہیں یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ وہ چھوڑ دیے گئے ہیں، وہ اس لیے آزاد ہیں کہ خدا کا طریقہ جلدی پکڑنے کا طریقہ نہیں، نہ اس لیے کہ خدا انھیں پکڑنے والا نہیں۔ خدا نے انسان کو اپنی ذات کی تکمیل کے لیے نہیں پیدا کیا ہے۔ بلکہ اس طرح خود انسان کو یہ موقع دیا گیا ہے کہ وہ موجودہ امتحان کی دنیا میں اپنے آپ کو خدا کا سچا بندہ ثابت کرے تا کہ وہ خدا کی ابدی نعمتوں کا حق دار بن سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1997 All issues

Printed page