دو راستے
الرسالہ، جون ۱۹۹۷، صفحہ ۳۶
دو راستے
قرآن کی سورہ نمبر۷۶ میں ارشاد ہوا ہے کہ __ کبھی انسان پر زمانہ میں ایک وقت گزرا ہے کہ وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا۔ ہم نے انسان کو ایک مخلوط بوند سے پیدا کیا، ہم اس کو پلٹتے رہے۔ پھر ہم نے اس کو سننے والا، دیکھنے والا بنا دیا۔ ہم نے اس کو راہ سجھائی چاہے وہ شکر کرنے والا بنے یا انکار کرنے والا۔ ہم نے منکروں کے لیے زنجیریں اور طوق اور بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔ نیک لوگ ایسے پیالے سے پئیں گے جس میں کافور کی آمیزش ہوگی، اس چشمہ سے خدا کے بندے پئیں گے۔ وہ اس کی شاخیں نکالیں گے۔ وہ لوگ واجبات کو پورا کرتے ہیں۔ اور ایسے دن سے ڈرتے ہیں جس کی سختی عام ہوگی۔ اور اس کی محبت پر کھانا کھلاتے ہیں۔ محتاج کو اور یتیم کو اور قیدی کو۔ ہم جو تم کو کھلاتے ہیں۔ تو خدا کی خوشی چاہنے کے لیے ہم نہ تم سے بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکر گزاری۔ ہم اپنے رب کی طرف سے ایک سخت اور تلخ دن کا اندیشہ رکھتے ہیں۔ پس خدا نے ان کو اس دن کی سختی سے بچا لیا۔ اور ان کو تازگی اور خوشی عطا فرمائی اور ان کے صبر کے بدلہ میں ان کو جنت اور ریشمی لباس عطا کیا (الدھر ۱-۱۲)
دنیا میں انسان کو آزاد پیدا کیا گیا۔ اور پھر اس کو راہ دکھادی گئی۔ ناشکری کی راہ اور شکر گزار زندگی کی راہ۔ اب یہ انسان کے اپنے اوپر ہے کہ وہ دونوں میں سے کون سی راہ اختیار کرتا ہے۔ جو شخص ناشکری کا طریقہ اختیار کرے اس کے لیے آخرت میں دوزخ کا عذاب ہے۔ اور جو شخص شکر گزاری کا طریقہ اختیار کرے اس کے لیے جنت کی نعمتیں ۔ جو آدمی خدا کو پہچان لے، اسی کے ساتھ وہ تمام حقیقتوں کو بھی پہچان لیتا ہے۔ خدا کا علم اس کے اوپر دوسرے تمام علوم کے دروازے کھول دیتا ہے۔ وہ اگر ایک طرف خدا شناس بنتا ہے تو دوسری طرف وہ پورے معنوں میں حقیقت شناس بھی بن جاتا ہے۔ اس کی معرفت اس کو اس قابل بنا دیتی ہے کہ وہ خدا کے حقوق بھی ادا کرے اور اسی کے ساتھ دوسرے انسانوں کے حقوق بھی۔
فطرت اور شریعت میں حقیقت کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1997 All issues