We told him the only option was peace. p. 20
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۷، صفحہ ۹
بتاتے ہوئے کہا کہ ہم نے فلپائن کے باغی لیڈر سے پر زور تاکید کی کہ وہ جنگ کا طریقہ چھوڑ دیں۔ ہم نے انھیں بتایا کہ ایک ہی ممکن صورت ہے اور وہ امن ہے :
We told him the only option was peace. p. 20
نور مسواری اب مکمل طور پر بدل چکے ہیں۔ جس علاقہ کو پہلے وہ مسلم اسٹیٹ کی شکل دینا چاہتے تھے اب وہ اس پر راضی ہوگئے ہیں کہ وہ اس کو عیسائیوں اور مسلمانوں کے مشترک ملک کے طور پر قبول کریں اور دونوں کی یکساں ترقی کے آرزومند ہوں۔
نورسواری نے انقلابی طریقہ اختیار کیا تو وہ ۳۵ سال میں تباہی کے سوا اور کوئی مثال قائم نہ کر سکے۔ انور ابراہیم نے مصالحانہ انداز اختیار کیا تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ملیشیا میں نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کو اقتصادی خوش حالی ملی بلکہ وہاں دینی ترقیاں بھی ہوئیں جس کی ایک علامت کو الالمپور کی وہ مسجد ہے جو دنیا کی سب سے زیادہ بلند مسجد سمجھی جاتی ہے ۔ یہ فطرت کا قانون ہے کہ اس دنیا میں ہمیشہ پر امن جد و جہد نتیجہ خیز ہو اور تشدد دانہ جد و جہد صرف بے نتیجہ ہو کر رہ جائے۔
اس مختلف انجام کو دیکھ کر اب ساری دنیا میں مسلم رہنماؤں کو ہوش آنا شروع ہو گیا ہے۔ جذباتیت کے بجائے تحمل ، تشدد کے بجائے امن اور جوش کے بجائے ہوش کا طریقہ اب مسلم دنیا میں ایک عمومی لہر کی صورت اختیار کر رہا ہے۔ اس کی مثالیں ہر اس جگہ دیکھی جا سکتی ہیں جہاں پہلے لوگ پر فخر طور پر انتہا پسندی اور تشدد کی زبان بولنے لگے تھے ۔ عقل اور اسلام دونوں کا تقاضا ہے کہ جب بھی کسی مقصد کے لیے عمل کرنا ہو تو محض اپنی خواہش کے تحت کوئی اقدام نہ کیا جائے بلکہ حالات کا گہرا جائزہ لے کر ایسا منصوبہ بنایا جائے جو قابل عمل ہو۔ اس معاملہ میں بنیادی اصول یہ ہے کہ پولیٹیکل اسٹیٹس کو پر راضی رہتے ہوئے موجود امکانات کو استعمال کیا جائے ۔ سیاسی نزاع کھڑی کرنے کے بجائے تعمیری میدان میں پر امن جد و جہد جاری کی جائے۔ حالات کے ڈھانچہ کو بدلے بغیر لے ہوئے فوائد کو استعمال کیا جائے ۔ یہی کسی عمل کا صحت مند آغاز ہے اور اسی طریقہ کو اختیار کرنے والے لوگ کوئی حقیقی کامیابی حاصل کرتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1997 All issues