Al-Risala · July 1997 · page 14

علم انسانی

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۷، صفحہ ۱۴

علم انسانی

ڈاکٹر البرٹ شوائٹزر (Albert Schweitzer) ۱۸۷۵ء میں فرانس میں پیدا ہوا۔ اور ۱۹۶۵ء میں اس کی وفات ہوئی۔ وہ ایک فلسفی تھا۔ ۱۹۵۲ء میں اس کو نوبیل کا پیس پرائز دیا گیا۔ اس نے بہت سی کتابیں لکھیں۔ اس نے اپنے علمی مطالعہ کا خلاصہ اس طرح بیان کیا ہے کہ جب ہم زیادہ علم حاصل کرتے ہیں تو چیزیں زیادہ قابل فہم نہیں ہوجاتیں، بلکہ صرف زیادہ پراسرار بن جاتی ہیں : As we acquire more knowledge, things do not become more comprehensible—only more mysterious. یہ بات تمام ان سائنس دانوں نے کسی نہ کسی انداز میں کہی ہے جنھوں نے موجودہ زمانہ میں عالم فطرت کا مطالعہ کیا۔ قدیم زمانہ میں معلومات کی حد قابل مشاہدہ اجسام تک تھی۔ نیوٹن کے زمانہ میں معلومات کی حد ایٹم تک پہنچ گئی۔ آئن سٹائن کے بعد معلومات کی حد الیکٹران تک جا پہنچی۔ مگر ساری ترقیوں کے باوجود انسان آج بھی حیرانی کے عالم میں ہے۔ آج بھی وہ یہی محسوس کرتا ہے کہ معلومات میں اضافہ کے باوجود علم کی آخری حد ابھی بہت دور ہے۔ جو کچھ انسان نے جانا ہے، اس سے بہت زیادہ وہ ہے جس کو جاننا ابھی باقی ہے۔

علم کی اسی لامحدودیت کا یہ نتیجہ ہے کہ جو آدمی جتنا بڑا عالم ہوتا ہے، اتنا ہی زیادہ اس کے اندر تواضع ہوتی ہے۔ علم کا اضافہ صرف آدمی کے اس احساس کو بڑھاتا ہے کہ میں کچھ نہیں جانتا۔ اگر کسی آدمی کے اندر علم کا غرور ہو تو سمجھ لیجئے کہ وہ صرف جاہل ہے، وہ ابھی تک علم سے آشنا نہیں ہوا۔ یہی بات قرآن میں ان الفاظ میں کہی گئی ہے کہ : انما یخشی ٱللَّهَ من عباده العلماء (فاطر ۲۸) یعنی اللہ سے اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔ علم میں اضافہ خشیت الہی پیدا کرتا ہے، اور خشیت الہی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی آخری حد تک متواضع بن جاتا ہے۔ حقیقی علم اپنی بے علمی کو بتاتا ہے۔ حقیقی علم آدمی کو صرف اس سے واقف کراتا ہے کہ اس کا خالق کتنا زیادہ عظیم ہے اور اس کے مقابلہ میں میں کتنا زیادہ غیر عظیم ہوں۔ حقیقی علم آدمی کو سچا عبادت گزار بنا دیتا ہے ــــــ اور اسی کے ساتھ سچا انسان ۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1997 All issues

Printed page