Al-Risala · January 1997 · page 4

روزہ کیا ہے

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۷، صفحہ ۴

روزہ کیا ہے

روزہ خود انضباطی (self-discipline) کی مشق ہے۔ روزہ کے دنوں میں آدمی خود اپنے ارادہ اور فیصلے سے کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے۔ اس کے بعد جب شام کا وقت آتا ہے تو دوبارہ وہ خود اپنے ارادہ اور فیصلے سے کھانا کھاتا ہے اور پانی پیتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے آپ کو خود انضباطی کی زندگی گزارنے کے لئے تیار کرتا ہے۔ سال کے ایک مہینہ میں کھانے پینے کے معاملہ میں روزہ دار بن کر وہ اپنے آپ کو اس قابل بناتا ہے کہ سال کے بقیہ مہینوں میں وہ اپنے ہر معاملہ میں روزہ دارانہ زندگی گزار سکے۔

کائنات میں انسان کے سوا بے شمار چیزیں ہیں۔ یہ تمام کی تمام مکمل طور پر خدا کے تحت ہیں۔ ہر چیز اپنے اختیار کو ترک کر کے خدا کے قانون کی پابندی کر رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو منظور ہے کہ انسان اطاعت کی اس روش کو خود اپنے ارادہ سے اپنے لئے اختیار کرے۔ وہ خود اپنے فیصلہ سے اپنے آپ کو خدا کا پابند بنالے۔

اسی خود اختیار کردہ پابندی کی تربیت کے لئے روزہ کا نظام مقرر کیا گیا ہے۔ روزہ کوئی سالانہ رسم نہیں، وہ ایک سالانہ تربیت ہے۔ روزہ وقتی طور پر بھوک پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں۔ روزہ مستقل طور پر صبر و برداشت کی زندگی گزارنے کا ایک سبق ہے۔

روزہ میں آدمی کے سامنے کھانا اور پانی ہوتا ہے مگر بھوک پیاس کے باوجود وہ ان کو نہیں لیتا۔ اسی طرح یہ مطلوب ہے کہ آدمی کو خدا کی مرضی کے خلاف چلنے کا موقع ہو مگر خواہش کے باوجود وہ ایسے راستہ پر نہ جائے۔ آدمی کے لئے گھمنڈ کرنے کا امکان پوری طرح موجود ہو، مگر چاہنے کے باوجود وہ گھمنڈ کو چھوڑ کر تواضع کا طریقہ اختیار کرلے۔ آدمی کے لئے بے انصافی کے دروازے کھلے ہوئے ہوں مگر طبیعت کے تقاضے کے باوجود وہ زیادتی اور بے انصافی سے دور رہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اس دنیا میں خود عائد کردہ پابندی کی ایک زندگی گزارے۔ روزہ میں یہ پابندی کھانے پینے کے معاملہ میں ہوتی ہے اور بقیہ زندگی میں یہ پابندی اخلاقی سلوک کے معاملہ میں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1997 All issues

Printed page