Kelaty Trading Company
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۷
کو دیکھیں ۔ ہم ایک ڈھلوان راستہ پر چل رہے تھے کہ سامنے سے ایک فلسطینی مسلمان آتا ہوا دکھائی دیا۔ اس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا جس کی عمر غالباً دس سال ہوگی۔ بچہ اپنے ہاتھ میں زیتون کی شاخیں لیے ہوئے تھا۔ اس نے ایک شاخ مجھ کو اور ایک شاخ میرے ساتھی کو پیش کی۔ میرے ساتھی نے بتایا کہ زیتون کی شاخ امن کی علامت ہے اور وہ اپنی امن پسندی کے اظہار کے لیے یہ شاخ ہمیں دے رہا ہے۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کہ وہ انسان کی نمائندگی کر رہا ہو اور پوری انسانیت کی طرف سے کہہ رہا ہو کہ ان بے فائدہ جھگڑوں کو بند کرو اور ہمیں امن کے ساتھ رہنے دو۔
28 اگست کی دوپہر کو ایک اطالوی مسیحی کے ہمراہ کنیسۃ القیامہ (Church of Resurretion) دیکھا۔ یہ بہت بڑا ہے اور مسجد عمر سے ملا ہوا ہے۔ اسی کے اندر وہ جگہ ہے جس کے متعلق عیسائی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ یہاں حضرت مسیح کو سولی دی گئی تھی۔ اس کو مقدس سپلکر (Holy Sepulchre) کہا جاتا ہے۔ یہاں عجیب و غریب منظر ہے۔ دیوار سے ملا ہوا حضرت مسیح کا قد آدم مجسمہ ہے۔ اس کے پیچھے صلیب کی لکڑی ہے۔ اس لکڑی کے ساتھ آپ کے دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں میں کیل ٹھونکی ہوئی ہے جس سے خون نکل رہا ہے۔ گردن میں پھانسی کی رسی ہے۔ آپ کا جسم مردہ کی مانند لٹک رہا ہے۔
اسی کے ساتھ چرچ میں کئی اور مقدس مقامات ہیں۔ وہ مقام جہاں مسیحی عقیدہ کے مطابق، حضرت مسیح کے جسم کو صلیب سے اتار کر رکھا گیا تھا۔ یہاں ایک چبوترہ ہے جس کو عورتیں چومتی ہوئی نظر آئیں۔ ایک اور مقام ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ تین دن کے بعد حضرت مسیح دوبارہ زندہ ہو کریہاں نمودار ہو گئے ۔ اور یہاں سے پھر آسمان میں چلے گئے ۔
28 اگست کی شام کو دیوار گریہ (Wailing wall) دیکھی۔ یہ مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کے احاطہ کی دیوار سے ملی ہوئی ہے۔ دیوار کے ساتھ ملا ہوا وسیع میدان ہے جس میں ایک رسی تان کر عورت اور مرد کا علاقہ الگ کر دیا گیا ہے۔ بہت سے یہودی مرد اور عورت دیوار کے پاس کھڑے ہو کر پیشانی کے ساتھ دیوار سے چٹے ہوئے تھے اور دعائیں مانگ رہے تھے۔ لاطینی زبان میں قبر کے لیے سپلکر (sepulchre) کا لفظ ہے۔ یروشلم میں مسیحی عقیدہ کے
‹ Previous page Next page › Contents of September 1997 All issues