قوت مرہبہ
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۷
قوت مرہبہ
وأعدوالهم ما استطعتم من قوة و اور ان کے لئے جس قدر تم سے ہو سکے تیار من رباط الخيل ترهبون به عدو الله رکھو قوت اور پلے ہوئے گھوڑے کہ اس سے و عدوکم (الانفال ٦٠) تمہاری ہیبت رہے اللہ کے دشمنوں پر اور تمہارے دشمنوں پر۔
قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوا کہ اہل ایمان کے لئے اگر کسی کی طرف سے عداوت کا مسئلہ پیدا ہو تو اس وقت اصل کام اعداد ہو گانہ کہ جہاد جہاد(بمعنی قتال)، بوقت عداوت اگر حریف طاقتور ہو اور اہل ایمان ان کے مقابلہ میں کمزور ہوں تو ایسی حالت میں حریف سے جنگ چھیڑنا عملی نتیجہ کے اعتبار سے خودکشی کے ہم معنی ہے ، اور خودکشی اسلام میں حرام ہے۔ کسی بھی جنگ کا مقصد کوئی مثبت نتیجہ حاصل کرنا ہوتا ہے نہ کہ حریف کو یہ موقع دینا کہ وہ مزید جارحیت کر کے اہل ایمان کو تباہ کر ڈالے۔ اور ان کا زور توڑ دے۔ جہاد اسلام میں با معنی عمل کا نام ہے نہ کہ خودکشی کے اقدام کا۔
مزید یہ کہ اعداد (تیاری) کا مقصد اصلاً قتال نہیں ہے بلکہ ارہاب ہے۔ یعنی حریف کو اس حد تک خوف زدہ کرنا کہ وہ جارحانہ کارروائی کا ارادہ ترک کر دے، اور اس طرح امن و امان کی حالت بدستور باقی رہے۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ اس معاملہ میں تیاری کا اصل معیار تیر اور تلوار نہیں ہے بلکہ، قرآن کے الفاظ میں ، قوت مرابہ ہے۔ یعنی وہ قوت جس میں ہیبت کا پہلو پایا جائے ۔ موجودہ زمانہ ایک بدلا ہوا زمانہ ہے۔ اس زمانہ میں ارہاب کی صفت جنگی ہتھیاروں میں نہیں ہے بلکہ علم اور اقتصادیات میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سوویت یونین ۱۹۹۱ میں ٹوٹ گیا کیوں کہ اس کے پاس اگرچہ جنگی ہتھیاروں کاڈھیرتھا، ، مگر اقتصادی اعتبار سے وہ کھوکھلا گیا تھا۔ تیاریوں کے اس نے پس امنہ پی سی ، ہتھیاروں کا ریسرچ ، انڈسٹریل اسٹا رسی ، اخبارات سے رسائل، ریاضی موجودہ زمانہ میں علم اور اقتصادیات کی طاقت ہی اصل طاقت ہے ۔ یہی وہ قوت مہر ہبہ ہے جو موجودہ مسلمانوں کو بھر پور طور پر حاصل کرنا چاہئے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1997 All issues