فطری روش
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۷
فطری روش
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے مکہ میں ایک اختلافی واقعہ پیش آیا۔ اس واقعے کا تذکرہ تاریخ کی کتابوں میں اس طرح آیا ہے :
اریقت دماء من بطنين من قريش فجمع (ابو سفيان) كبارهم وقال هل لكم يا معشر قريش فى الحق اوماہوافضل منه - فقال القوم وهل من شئ افضل من الحق فقال (ابو سفيان نعم انه العفو فقام القوم وتصالحوا ۔
قریش کے دو خاندانوں کے درمیان خون بہانے کا واقعہ ہوا، اس کے بعد ابوسفیان نے ان کے بڑوں کو جمع کیا۔ اور کہا۔ اے قریش کے لوگو! تم کو اپنا حق لینا ہے یا وہ جو اس سے بہتر ہے لوگوں نے کہا کیا حق وصول کرنے سے بھی بہتر کوئی چیز ہے۔ ابوسفیان نے کہا کہ ہاں وہ معاف کر دینا ہے۔ اس کے بعد لوگ اٹھے اور آپس میں صلح کرلی۔
عرب جاہلیت کا یہ واقعہ دراصل فطرت انسانی کا واقعہ ہے اس وقت عرب کے لوگ اپنی فطرت پر قائم تھے، وہ فطری انسانی اوصاف سے متصف تھے اور جب کوئی انسان یا کوئی گروہ اپنی ابتدائی فطرت پر قائم ہو تو اس کا وہی حال ہوتا ہے۔ جس کی ایک تصویر مذکورہ واقعے میں دکھائی دیتی ہے۔
کسی سماج میں قتل کی قسم کا کوئی بڑا واقعہ پیش آجائے تو فوراً لوگوں کے اندر انتقام کے جذبات بھڑک اٹھتے ہیں مگر زیادتی کا انتقام لینا کوئی اصلاحی کام نہیں۔ یہ ایک برائی کو دوسری میں تبدیل کرنا ہے۔ اس لیے خیر کی بات یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو معاف کر دیں اور ٹوٹے ہوئے انسانی رشتے کو آپس میں جوڑ لیں۔
زیادتی کا انتقام لینا پوری آبادی کو منفی عمل کا کارخانہ بنا دیتا ہے اس کے برعکس جب عفو اور درگزر کا طریقہ اختیار کیا جائے تو بھڑکے ہوئے جذبات ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں۔ منفی ماحول دوبارہ مثبت ماحول میں تبدیل ہو جاتا ہے زندگی کا قافلہ جو بظاہر ہر ایک رکاوٹ سے دوچار ہو گیا تھا، وہ دوبارہ اپنے سفر پر رواں دواں ہو جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1997 All issues