ناکامی نہیں
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۷
ناکامی نہیں
پیغمبرانہ نگاہ کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ وہ نہیں کو بھی ہے کی صورت میں دیکھتا ہے۔ اس کی بنیاد یہ ہے کہ خدا نے دنیا کو اس ڈھنگ پر بنایا ہے کہ یہاں کوئی چیز آخری طور پر مشکل نہیں۔ بلکہ ہر مشکل کے ساتھ آسانی بھی شامل ہے۔ زندگی کی یہ حقیقت قرآن میں ان لفظوں میں بتائی گئی ہے کہ پس بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے، بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے (النشراح)
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ شنہ میں مکہ سے طائف جاتے ہوئے پیغمبر اسلام ایک ایسے پہاڑی راستہ سے گزرے جو تنگ اور دشوار گزار تھا۔ آپ نے پوچھا کہ اس راستہ کا نام کیا ہے۔ لوگوں نے کہا کہ الضيقہ (مشکل) آپ نے فرمایا نہیں بلکہ اس کا نام الیسری (آسان) ہے۔ یہ واقعہ پیغمبرانہ طرز فکر کو بتاتا ہے۔ پیغمبر دنیا کی ہر چیز کو خدا کی نظر سے دیکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کو مشکل بھی آسانی کے روپ میں دکھائی دیتی ہے۔ کیوں کہ خدا نے اپنی دنیا کو اسی قانون کے تحت بنایا ہے کہ یہاں ہر مشکل کے ساتھ آسانی بھی ہمیشہ موجود رہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ کو اپنے وطن میں سخت ترین مشکل سے سابقہ پیش آیا۔ اس کے باوجود آپ نے دنیا کی سب سے بڑی کامیابی حاصل کی۔ یہ ایک ایسا مسلم واقعہ ہے جس سے انکار کرنا ممکن نہیں۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ رسول کی زندگی میں تمہارے لیے اسوہ ہے (الاحزاب) یہ اسوہ یا نمونہ کسی محدود معنیٰ میں نہیں ہے۔ بلکہ وہ زندگی کے ہر معاملے کے بارے میں ہے۔ آپ نے جس طرح نماز اور حج کا طریقہ بتایا اسی طرح آپ نے اپنے عمل سے یہ بھی بتایا کہ مسائل کا مقابلہ کس طرح کیا جائے۔ اور مشکل کو آسان کس طرح بنایا جائے۔
پیغمبر اسلام نے اپنے عمل سے موجودہ دنیا کے بارہ میں اس امکان کی ممتاز ترین مثال قائم کی ہے۔ آپ نے مشکل ترین حالات میں اعلیٰ ترین کامیابی حاصل کی۔ حتیٰ کہ آپ نے اپنے دشمنوں کو اپنا ساتھی بنالیا۔ آپ نے اپنی مخالف صف کے لوگوں کو اپنی صف میں شامل کر لیا۔ آپ کو اپنے ماحول میں انتہائی ناموافق حالات پیش آئے مگر آپ نے اپنی فراست کے تحت ان کو کامل طور پر اپنی موافقت میں تبدیل کر لیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1997 All issues