فطری حفاظت
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۸، صفحہ ۷
۶ دسمبر ۱۹۹۲ کے حادثہ کو کاماسمجھ رہے تھے۔ میں نے کہا کہ یہ کا نہیں ہے بلکہ یہ فل اسٹاپ ہے۔ اور آپ جانتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا۔ ڈھانے والے لوگ اپنے لحاظ سے بہت سی اور مسجدوں کی فہرست بنائے ہوئے تھے، مگر فطرت کے قانون نے ان کی فہرست کو حرف غلط کی طرح مٹا دیا، دوبارہ ان کے لیے ممکن نہ ہو سکا کہ وہ کسی اور مسجد کے ساتھ ۶ دسمبر کو دُہرا سکیں۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو جب بابری مسجد ڈھائی گئی تو شیو سینا کے لیڈر مسٹر بال ٹھاکرے نے کہا تھا کہ مجھے ان لوگوں پر فخر ہے جنھوں نے بابری مسجد کو ڈھایا۔ مگر اسی مہینہ کے اخبارات میں بال ٹھاکرے کا یہ بیان چھپا ہے کہ بابری مسجد کی جگہ پر نہ مسجد بنائی جائے اور نہ مندر، دونوں فرقوں کو اس سے الگ مقام پر مسجد اور مندر بنانے کی جگہ دے دی جائے اور جہاں بابری مسجد تھی وہاں ایک قومی یادگار تعمیر کی جائے۔ اس معاملہ میں کانگریس نے مسلمانوں سے یہ کہہ کر معافی مانگی ہے کہ اس وقت اگرچہ مرکز میں کانگریس کی حکومت تھی، مگر ہم بابری مسجد کو بچانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی یہ اعلان کر دیا ہے کہ مندر مسجد کا آشُو اب اس کے ایجنڈے میں نہیں، وغیرہ۔ اس دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں کسی بڑی برائی کو مسلسل جاری نہیں رکھا جا سکتا۔ کوئی بڑی برائی یا کوئی سنگین جرم جب کیا جاتا ہے تو فوراً ہی اس کے خلاف مانع اسباب اکٹھا ہونے لگتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایسی صورت حال پیدا ہوتی ہے کہ اس برائی یا ظلم کی تکرار ممکن نہیں رہتی۔ اگر کوئی شخص آپ سے کہے کہ میں تمہارے سر پر آسمان گرادوں گا۔ تو آپ کو کہنے والے سے لڑنا نہیں چاہیے بلکہ یہ سوچ کر چپ رہنا چاہیے کہ آسمان کو گرانا اس کے بس ہی میں نہیں ۔ اسی طرح کوئی پولیٹکل پارٹی یا لیڈر اگر آپ کی مخالفت میں بڑے بڑے الفاظ بولے تو اس کے خلاف کارروائی کرنے سے پہلے یہ سوچیے کہ ایسا ہونا ممکن ہے یا نہیں۔ اگر وہ ممکن نہ ہو تو آپ کو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس دنیا میں کسی کو یہ طاقت حاصل نہیں کہ وہ اپنے الفاظ کو واقعہ بناسکے۔ یہاں جو چیز واقعہ بنتی ہے وہ حقائق ہیں نہ کہ کسی کے بولے ہوئے الفاظ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1998 All issues