Al-Risala · April 1998 · page 11

شاکلہ کا مسئلہ

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۸، صفحہ ۱۱

شاکلہ کا مسئلہ

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ۔ اور ہم جب انسان کے اوپر انعام کرتے ہیں تو وہ اعراض کا طریقہ اختیار کرتا ہے ۔ اور ریپلینڈ موڑ لیتا ہے۔ اور جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو وہ نا امید ہو جاتا ہے۔ کہو کہ ہر ایک اپنے شاکلہ پر عمل کر رہا ہے، پس تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ کون زیادہ ہدایت والے راستہ پر ہے ( بنی اسرائیل - ۸۴)

انسان کی سوچ، متاثر سوچ (کنڈیشنڈ تھنکنگ) ہوتی ہے۔ مثلاً ایک آدمی دولت اور خوش حالی کے ماحول میں ہو تو اس کے اندر بے جا خود اعتمادی پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے سے باہر کسی شخص کو اہمیت نہیں دیتا۔ اور نہ کسی اور کی بات پر زیادہ دھیان دے پاتا۔ اس کے برعکس جو آدمی مصیبت اور بد حالی کا شکار ہو تو وہ حوصلہ کھو دیتا ہے۔ وہ ہر ایک کے بارے میں بے اعتمادی کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ دونوں ہی کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ اپنے قریبی حالات سے اوپر اٹھ کر سوچ نہیں پاتے اور نہ اپنے عمل کی بے لاگ منصوبہ بندی میں کامیاب ہوتے ۔ یہی مثال تمام معاملات کے لیے ہے۔

مثلاً حدیبیہ کے وقت اہل مکہ نے سارے معاملے کو حال کے اعتبار سے دیکھا اور اہل ایمان نے مستقبل کے اعتبار سے۔ اہل مکہ قریبی احوال میں گم تھے۔ اور اہل ایمان قریبی احوال سے اوپر اٹھ کر معاملہ کو دور اندیشی کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے۔ حال کے اعتبار سے دیکھنے کی وجہ سے اہل مکہ کو نظر آیا کہ چو دہ سو مسلمان اگر مکہ میں داخل ہو کر عمرہ کریں تو لوگوں کی نظر میں ان کا وقار ختم ہو جائے گا، اس لیے وہ ان کے مخالف بن گئے۔ اس کے برعکس اہل ایمان نے دیکھا کہ اگر امن کا معاہدہ کرکے وہ لوٹ جائیں تو اس کے نتیجہ میں دعوت کے غیر معمولی مواقع کھل جائیں گے اور حال کی ظاہری شکست مستقبل کی عظیم فتح میں بدل جائے گی۔

دنیا میں آدمی کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہ اپنے محدود دائرہ سے اوپر اٹھ کر سوچ سکے ۔ وہ ذاتی تعصبات کے بجائے عمومی حقائق کی روشنی میں اپنی رائے بنائے ۔ وہ شاکلہ انسانی میں گھر کر نہ رہ جائے بلکہ شاکلہ ربانی کی سطح تک پہنچنے کی کوشش کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1998 All issues

Printed page