Al-Risala · April 1998 · page 18

قدرت کے باوجود

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۸، صفحہ ۱۸

قدرت کے باوجود

حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ۔ جب تم کو اپنے دشمن پر قدرت حاصل ہو جائے تو اسے معاف کرنے کو اس پر اپنی قدرت کا شکرانہ بنا لو (رُوى عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال : اذا قدرت على عدوك فاجعل العفو عنه شکرًا للقدرة عليه) ادب الدنیا والدین للبصری ، صفحہ ۴۰۰ اخلاق کیا ہے ۔ اخلاق اعلیٰ انسانی کردار کا دوسرا نام ہے ۔ انسانی تعلقات میں کسی شخص سے جس اعلیٰ سلوک کی توقع کی جاتی ہے اسی کو اخلاق کہتے ہیں۔ کسی انسان کی انسانیت کو پہچاننے کا معیار یہی اخلاق ہے ۔

ایک شخص سے آپ کی دشمنی ہو گئی۔ پھر ایسے حالات پیش آئے کہ آپ نے اس کو زیر کر کے اس کے اوپر قابو پا لیا۔ اس وقت ایک صورت یہ ہے کہ آپ اس معاملے کو صرف انتقام کی نظر سے دیکھیں ، آپ یہ سوچیں کہ اب وہ وقت آ گیا ہے کہ اس سے بھر پور بدلہ لیا جائے اور اپنے انتقام کے جذبات کو ٹھنڈا کیا جائے۔ مگر یہ نہایت چھوٹی سوچ ہے ، اعلیٰ انسانیت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

دوسری صورت یہ ہے کہ آپ سارے معاملے کو خدا کی نظر سے دیکھیں ۔ آپ اپنی کامیابی کو خدا کی طرف سے ملی ہوئی کامیابی سمجھیں ۔ ایسی حالت میں آپ کے جذبات بالکل مختلف ہوں گے اب آپ کے اندر شکر کا جذبہ ابھر آئے گا۔ اپنی کامیابی کے بعد شکر کی سب سے زیادہ اعلیٰ صورت آپ کو یہ دکھائی دے گی کہ آپ اپنے دشمن کو معاف کر دیں۔ قابو پانے کے باوجود دشمن کو معاف کر دینا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ ایک زبردست قربانی کا معاملہ ہے۔ اس کے لیے باہر کے دشمن کو کچلنے کے بجائے ، خود اپنے نفس کو کچلنا پڑتا ہے۔ اپنے اندر بھڑکتی ہوئی انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے بعد ہی کسی کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ قابو پانے کے بعد بھی اپنے دشمن کو معاف کر دے ۔

معاف کرنا ایک نیکی ہے۔ اور قدرت کے باوجود معاف کرنا سب سے بڑی نیکی۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1998 All issues

Printed page