فخروناز
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۸، صفحہ ۴۰
فخروناز
حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فخروناز نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو (ان العجب لیأکل الحسنات كما تأكل النار الحطب) ادب الدنیا والدین للبصری، صفحه ۱۱۳ انسان کے اندر فطری طور پر انا کا جذبہ رکھا گیا ہے، کوئی بھی شخص ”کیسے اس احساس سے خالی نہیں۔ یہ جذبہ انسان کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے، وہ اس لیے ہے کہ آدمی کے اندر عزم وہمت پیدا ہو۔ وہ جوکھم کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے سفر کو جاری رکھے ۔ وہ خود اعتمادی کی طاقت سے مسلسل آگے بڑھتا رہے۔
مگر اکثر لوگ اس جذبہ کا برا استعمال کرتے ہیں۔ ان کا انا کا جذبہ خود اعتمادی کے بجائے خود پسندی اور ذاتی فخر کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ یہ انا کے جذبہ کا غلط استعمال ہے۔ اور کسی چیز کا غلط استعمال ہمیشہ اس کو برا بنا دیتا ہے ، خواہ حقیقت کے اعتبار سے وہ چیز کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو۔ فخر و ناز کا جذبہ کوئی سادہ چیز نہیں ۔ وہ انسان کی تمام خوبیوں کو کھا جاتا ہے ، وہ انسان کے اندر اعلی خصوصیات کے ارتقاء میں ایک مستقل رکاوٹ ہے۔ فخر کی نفسیات آدمی کو خود پسند بنادیتی ہے، اور جو آدمی خود پسند ہو جائے اس نے گویا اپنے آپ کو ذاتی خول میں بند کر لیا۔ ایسا آدمی اس صلاحیت سے محروم ہو جاتا ہے کہ وہ خارجی حقیقتوں کو سمجھے ، وہ دوسروں سے فائدہ اٹھائے ، وہ اپنے سے باہر کی چیزوں کو اپنی ترقی کا زینہ بنا سکے ۔
ایسا آدمی کوئی نیکی کا کام کرتا ہے تو اس میں بھی اس کا فخر کا جذبہ شامل رہتا ہے ۔ وہ جو کچھ کرتا ہے خود نمائی کے لیے کرتا ہے۔ اس کی سرگرمیوں کا محور اس کی اپنی ذات بن جاتی ہے، حالانکہ صحیح یہ ہے کہ آدمی کی سرگرمیوں کا محور وہ حقیقت ہو جو اس کے باہر اعلی سطح پر قائم ہے۔ فطرت انسان کے اندر تواضع دیکھنا چاہتی ہے۔ لیکن فخر پسند آدمی کی تصویر بنا ہوا ہوتا ہے۔ فطرت حقیقتوں کے اعتراف کو پسند کرتی ہے۔ مگر ایسا آدمی بے اعترافی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ فطرت تمام انسانوں کو ایک نظر سے دیکھتی ہے اور ایسا آدمی چاہتا ہے کہ اس کو استثنائی مقام دیا جائے ۔ فطرت کے ساتھ اس قسم کی عدم مطابقت موجودہ دنیا میں قابل عمل نہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1998 All issues