حکمت کا سرچشمہ
الرسالہ، جون ۱۹۹۸، صفحہ ۴
حکمت کا سرچشمہ
حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ۔ جب بھی کوئی بندہ دنیا سے بے رغبتی اختیار کرتا ہے تو خدا اس کے دل میں حکمت اُگا دیتا ہے ۔ اور اس کی زبان پر حکمت جاری کر دیتا ہے ۔ اور اس کو دنیا کا عیب اور اس کا مرض اور اس کا علاج دکھا دیتا ہے ، اور اس کو حفاظت کے ساتھ سلامتی کے گھر تک پہنچا دیتا ہے (مازهد عبد فى الدنيا الا انبت الله الحكمة في قلبه ، ونطق بها لسانه ، وبصره عيب الدنيا و داءها ودواءها ، واخرجه منها سالما الى دار السلام) البيهقى ، بحوالہ مشكوة المصابيح ، صفحہ ۱۳۳۵ حکمت کیا ہے ، حکمت در اصل حقیقت پسندی اور دور اندیشی کا دوسرا نام ہے۔ کسی شخص کا ذہنی ارتقاء جب اس حد تک پہنچ جائے کہ وہ مسائل کا بے لاگ جائزہ لے سکے اور ان کے بارہ میں گہری بنیادوں پر فیصلہ کرنے لگے تو اسی کا نام حکمت ہے۔
اس حکمت کا سرچشمہ دنیا سے بے رغبتی ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے اوپر دنیا کی کسی چیز کی محبت اتنی غالب آتی ہے کہ وہ اس کو باتوں کی حقیقت سمجھنے کے لیے اندھا بہرا بنا دیتی ہے۔ اسی طرح کبھی ایسا ہوتا ہے کہ دنیا کا کوئی تجربہ اس کو کچھ لوگوں کے معاملہ میں بغض کی نفسیات میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ایسا آدمی اپنے بغض کی بنا پر اس قابل نہیں رہتا کہ وہ معاملہ کو اس کی اصل صورت میں دیکھ سکے ۔ جو آدمی اس قسم کی نفسیات میں مبتلا نہ ہو وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ چیزوں کو ویسا ہی دیکھے جیسا کہ وہ ہیں۔ وہ ان کے بارے میں وہی رائے قائم کرے جو از روئے حقیقت ہونا چاہیے ۔ ان کے مقابلہ میں وہ وہی صحیح ترین روش اختیار کرے جو حق اور انصاف کا تقاضا ہے۔ زہد یا دنیا سے بے رغبتی آدمی کو بے پناہ بنا دیتی ہے۔ ایسا آدمی عقلی اعتبار سے ایک ترقی یافتہ انسان ہوتا ہے۔ اپنے مزاج کے اعتبار سے وہ حقیقت پسند ہوتا ہے اور اپنے اقدام کے بارے میں سنجیدہ اور محتاط ۔ جو لوگ اس بلند کردار کے حامل ہوں ان کے لیے یہی مقدر ہے کہ وہ دنیا میں بھی کامیاب ہوں اور آخرت میں بھی کامیاب ۔
زہد ترک دنیا نہیں ، وہ ذ ہنی ارتقاء کاذریعہ ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1998 All issues