Al-Risala · June 1998 · page 16

کامیاب تجارت

الرسالہ، جون ۱۹۹۸، صفحہ ۱۶

کامیاب تجارت

صہیب رومی ایک صحابی تھے۔ ہجرت کے موقع پر وہ مکہ سے مدینہ جانے لگے تو ان کے پاس کچھ سونے کا سکہ (دینار) تھا۔ وہ باہر نکلے تو مکہ کے کچھ نوجوان انھیں ملے۔ بات چیت کے بعد انھیں معاملے کا اندازہ ہوا تو انھوں نے کہا کہ ہم تم کو سونا لے کر مدینہ نہیں جانے دیں گے۔ صہیب رومی نے کہا کہ میں تم کو یہ سونا دے دوں تو کیا تم مجھ کو یہاں سے جانے دو گے۔ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ صہیب رومی نے فوراً سونا نکال کر انھیں دے دیا اور مدینہ روانہ ہوگئے۔

وہ مدینہ پہنچے تو سب سے پہلے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور مکہ میں پیش آنے والے واقعہ آپ کو بتایا۔ آپ نے اس کو سن کر فرمایا کہ اے صہیب، تمہاری تجارت کامیاب رہی۔

اس واقعہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اہم سنت معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ اگر کسی سے نزاع کی صورت پیدا ہو جائے اور کچھ مادی نقصان اٹھا کر نزاع ختم ہو سکتی ہو تو مادی نقصان برداشت کرتے ہوئے فوراً نزاع کو ختم کر دیا جائے۔

یہ طریقہ بظاہر نقصان کا طریقہ دکھائی دیتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ زبردست نفع کا طریقہ ہے۔ اس میں آدمی تھوڑی چیز دے کر زیادہ بڑی چیز پا لیتا ہے۔

مذکورہ واقعہ میں ایک طرف چند دینار تھے اور دوسری طرف ایک انسان کا اپنا وجود۔ انسان کا اپنا وجود بہر حال چند دینار سے بہت زیادہ قیمتی ہے۔ اس لیے چند دینار دے کر اگر ایک انسان کی زندگی محفوظ ہو جائے تو یہ نفع کی تجارت ہے نہ کہ گھاٹے کی تجارت۔

نزاع کو جاری رکھنے کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ پیش قدمی کا عمل رک جاتا ہے۔ اور اگر نزاع کو ختم کر دیا جائے تو اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ پیش قدمی کا عمل جاری رہے گا۔ اور پیش قدمی کا جاری رہنا اس سے ہزار گنا زیادہ بہتر ہے کہ ایک نزاع کی خاطر پیش قدمی کا عمل روک دیا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1998 All issues

Printed page