Al-Risala · June 1998 · page 43

حقیقت کی اہمیت

الرسالہ، جون ۱۹۹۸، صفحہ ۴۳

کامیابی کا راز

حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنی پسندیدہ چیز کو صرف اس وقت پا سکتے ہو جب کہ تم اپنی ناپسندیدہ چیز پر صبر کرو۔ اور جو کچھ تم چاہتے ہو اس کو تم اپنی خواہشوں کو چھوڑے بغیر حاصل نہیں کر سکتے (انكم لا تنالون ماتحبون الا بالصبر على ما تكرهون ولا تبلغون ما تهوون الأبتركي ما تشتهون) ادب الدنيا والدین للبصری ، صفحه ۸۶ موجودہ دنیا فطرت کے جس اصول پر قائم ہے وہ یہ ہے کہ یہاں پانے کے لیے کھونا پڑتا ہے۔ یہاں ایک پسندیدہ چیز کو حاصل کرنے کے لیے کسی دوسری پسندیدہ چیز کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ یہاں کامیابی کی منزل پر پہنچنا اس کے لیے مقدر ہے جو راستہ کی ناکامیوں کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہو جائے ۔ اسی کا نام صبر ہے۔ صبر کی صفت آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ اپنی مطلوب چیز کو حاصل کرنے کی ضروری قیمت ادا کر سکے۔ صبر آدمی کو حوصلہ مند بناتا ہے ۔ صبر کے ذریعہ آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ ان ناخوش گواریوں کو پرسکون طور پر جھیل سکے، جن کا پیش آنا ہر معاملہ میں ضروری ہے ۔ خواہ وہ دین کا معاملہ ہو یا دنیا کا معاملہ ہو۔

درخت سے پھول لینے کے لیے آدمی کو کانٹوں سے نباہ کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح سماج کے اندر اپنے کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ان ناخوش گواریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے جو لازمی طور پر دوسروں کی طرف سے پیش آتی ہیں۔ آدمی کا مقصد جتنا زیادہ بلند ہواتنی ہی زیادہ دشواریاں اس کی راہ میں پیش آتی ہیں۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ آدمی اس قسم کی تمام ناگواریوں کو گوارا کرے تاکہ وہ اپنی پوری قوت کو یکسوئی کے ساتھ اپنے مقصد کے حصول میں لگا سکے۔

ناخوش گواریوں پر صبر کرنا اپنے اندر ایک مثبت پہلو رکھتا ہے۔ اس سے قوت ارادی بیدار ہوتی ہے ۔ وہ آدمی کے عملی جذبہ کو بڑھاتی ہے۔ اس طرح آدمی مزید اضافہ کے ساتھ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی جد و جہد کو زیادہ کامیابی کے ساتھ جاری رکھ سکے ۔

اس دنیا میں ایک چیز کو پانے کے لیے دوسری چیز کو چھوڑنا پڑتا ہے یہاں آدمی اپنی ایک خواہش کی تکمیل اس وقت کر پاتا ہے جبکہ وہ اپنی ایک اور خواہش کو اس کی خاطر چھوڑ دے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1998 All issues

Printed page