نکاح کا معاملہ
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۸، صفحہ ۹
انفرادی طور پر کوئی شخص اپنے حالات کے اعتبار سے نکاح نہ کرنے کا فیصلہ کرے تو ایسا کرنا اس کے لئے عین جائز ہوگا، بشر طیکہ وہ اپنی عفت کو محفوظ رکھے۔
تاریخ میں بہت سی ایسی دینی شخصیتیں پائی جاتی ہیں جنہوں نے نکاح نہیں کیا اور پوری زندگی غیر ازدواجی حالت میں گذار دی۔ پیغمبروں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کی ایک مثال ہیں۔ امت محمدی میں بھی کئی ایسے ممتاز بزرگ پائے جاتے ہیں جنہوں نے ساری عمر نکاح نہیں کیا، مثال کے طور پر امام نووی (وفات ۶۷۶) اور امام ابن تیمیه (وفات ۷۲۸)۔ اسی طرح موجودہ زمانہ میں سید جمال الدین افغانی، وغیرہ۔ اگر نکاح مطلق طور پر مطلوب ہو تا اور نکاح سے اعراض دین سے اعراض کے ہم معنی ہو تا تو ایسا نہیں ہو سکتا تھا کہ مذکورہ قسم کی شخصیتیں نکاح کے بغیر زندگی گزاریں اور اسی حال میں دنیا سے چلی جائیں۔ فقہ کی زبان میں، نکاح حسن لذاتہ نہیں ہے بلکہ حسن لغيره ہے۔ یعنی وہ بذات خود مطلوب نہیں ہے بلکہ ایک اور ضرورت کے تحت مطلوب ہے اور وہ بقاء نسل ہے۔ چونکہ مرد اور عورت کے درمیان ازدواجی تعلق کے بغیر نسل انسانی کا باقی رہنا ممکن نہیں اس لئے نکاح کی حیثیت ایک اجتماعی فریضہ کی ہے۔ لیکن وہ ہر فرد پر لازم نہیں۔ کوئی فرد اگر اپنے ذاتی مصالح کی بنا پر غیر ازدواجی زندگی گزارنے کا فیصلہ کرے تو ایسا کرنا اس کے لئے عین جائز ہوگا۔ ایسی حالت میں شریعت اس سے پاکدامنی کا تقاضا کرے گی نہ کہ جبری ازدواج کا۔ نکاح کی دینی اہمیت اصلاً اس اعتبار سے ہے کہ وہ بقاء نسل کے مقصد کو حاصل کرنے کا جائز طریقہ ہے۔ مرد اور عورت اگر نکاح کے بغیر باہم ملیں تو اس کے ذریعہ سے بھی نسل انسانی کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ مگر یہ طریقہ اسلام میں قطعی طور پر حرام ہے۔ اسلام میں بقاء نسل مطلوب ہے مگر یہ بقاء نسل نکاح کی صورت میں ہونا چاہئے نہ کہ اس کے بغیر۔
بعض افراد ایسے ہو سکتے ہیں جو یہ محسوس کریں کہ اگر وہ ازدواجی زندگی کی ذمہ داریوں سے اپنے کو آزاد رکھیں تو وہ عفیف بھی رہیں گے اور اسی کے ساتھ اعلیٰ انسانی مقاصد کے لئے زیادہ خدمات انجام دے سکیں گے۔ ان افراد کے لئے ایسا کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ مخصوص حالات میں باعث ثواب بھی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1998 All issues