فطری فارمولا
الرسالہ، اگست ۱۹۹۸، صفحہ ۱۴
دیا۔ اسرائیل کا جوابی تشدد دراصل مسلمانوں کے جہاد کی قیمت تھی۔ مسلمانوں کو دیا تو اس قسم کا پر تشدد جہاد نہیں کرنا چاہیے۔ اور اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو اس کے بعد انہیں کسی شکایت کے بغیر اس کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان ایک طرف اپنی متشددانہ کارروائیوں کو جہاد کہتے ہیں اور جب فریق ثانی ان پر جوابی تشدد کرتا ہے تو وہ اس کے خلاف شکایت کا طوفان کھڑا کرتے ہیں۔ حالانکہ مسلمانوں کی متشددانہ کارروائی اگر جہاد کہتی تو انھیں اس کے نتیجہ کو احدی الحسنیین(التوبہ (التوبہ:۵۲) سمجھ کر بخوشی اس کو قبول کرنا چاہیے۔
فطری فارمولا
ایک صاحب سے امن اور عدل کے مسئلہ پر گفتگو ہوئی۔ ان کا خیال تھا کہ جب تک عدل قائم نہ کیا جائے امن قائم نہیں ہو سکتا۔ اس سلسلہ میں میں نے اپنے مقالہ میں جو بات کہی تھی اس پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ بہت سادہ نقطہ نظر ہے:
It is too simplistic approach
میں نے اس کی واقعاتی تشریح کے لیے کہا مگر وہ اپنے تبصرہ کی کوئی واقعاتی تشریح پیش نہ کر سکے۔ میں نے کہا کہ یہ سادہ اور غیر سادہ کی بات نہیں۔ قانون فطرت کے مطابق یہ ممکن ہی نہیں کہ عدل قائم کر کے امن حاصل کیا جائے۔ ایسا کبھی تاریخ میں نہیں ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ امن خود عدل نہیں ہے بلکہ امن سے وہ راستہ کھلتا ہے جس کے ذریعہ آپ عدل کی منزل تک پہنچ سکیں:
Peace, itself, is not justice. But peace does clear the path to justice. مثال کے طور پر پیغمبر اسلام نے جب حدیبیہ کا امن معاہدہ کیا تو ایسا نہیں ہوا کہ خود معاہدہ کے ساتھ عین اسی وقت عدل کا قیام عمل میں آگیا ہو۔ بلکہ جو ہوا وہ یہ تھا کہ اس امن معاہدہ نے وہ مواقع اور امکانات پیدا کیے جن کو استعمال کر کے آپ کے لیے عدل کا قیام ممکن ہو گیا۔ مشاہدات امریکہ کے لیے میرا موجودہ سفر وہاں کا ساتواں سفر تھا۔ ان سفروں میں مجھے امریکہ کے مختلف پہلوؤں کو دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ وہاں کے شہر اور گاؤں ، وہاں کے ادارہ اور لائبریریاں، وہاں کی سائنسی
‹ Previous page Next page › Contents of August 1998 All issues