Al-Risala · August 1998 · page 24

ناسمجھی کا مسئلہ

الرسالہ، اگست ۱۹۹۸، صفحہ ۲۴

کے مطابق ان پر لازم تھا کہ وہ اس "طاغوت" سے قطع تعلق کریں مگر وہ اس سے کامل تعاون کا طریقہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

میں امریکہ یا کسی اور مغربی ملک میں قیام کو غلط نہیں سمجھتا۔ میرے نزدیک اس قسم کے تمام معاملات قومی معاملات ہیں نہ کہ اسلامی عقیدہ کے معاملات ۔ اگر آپ ان معاملات کو قومیت کے خانے میں رکھیں تو آپ دو عملی کا شکار ہوئے بغیر ان ملکوں میں ان کے نظام کے تحت رہ سکتے ہیں۔ مگر جب آپ ایسے معاملات کو عقیدہ کا مسئلہ بنالیں تو اس کے بعد موجودہ روش یقینی طور پر دو عملی کی روش بن جاتی ہے۔ اور دو عملی کی روش بلاشبہ اسلام میں سب سے زیادہ بری چیز ہے ۔

ناسمجھی کا مسئلہ

ایک صاحب سے امن کے سوال پر گفتگو ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت مسلمانوں کے ساتھ ہر جگہ بے انصافی کی جارہی ہے۔ سب سے پہلے ضرورت ہے کہ اس بے انصافی کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے ۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے لیے امن سے زیادہ اہم چیز انصاف ہے۔ ہم امن کی خاطر انصاف کی قربانی نہیں کر سکتے :

Justice is more important than peace. We cannot sacrifice justice for peace. یہ سوچ کی غلطی ہے۔ اس وقت مسئلہ انصاف کے لیے کوشش کرنے کا نہیں ہے۔ بلکہ یہ ہے کہ ہم اس سوال پر غور کریں کہ سو سالہ کوششوں کے باوجود انصاف کیوں حاصل نہیں ہوا ۔ جب اس طرح غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ کوشش کا یہ رخ ہی غلط تھا۔ اس طرح کے حالات میں کوشش کا نشانہ انصاف نہیں ہوتا بلکہ امن ہوتا ہے۔ اصل ضرورت یہ تھی کہ دونوں فریقوں کے درمیان امن کی حالت قائم کی جائے تا کہ انصاف کو حاصل کرنے کا راستہ کھلے۔ انصاف نتیجہ ہے اور امن تدبیر ۔ ہمارے رہنماؤں نے یہ غلطی کی کہ انھوں نے نتیجہ کو تدبیر کا درجہ دے دیا۔ گویا کہ وہ دیوار بنانے سے پہلے چھت بنانے لگے۔ ایسی کوشش موجودہ عالم اسباب میں کبھی نتیجہ خیز نہیں ہو سکتی۔ تخلیقی فکر مسٹر فاروق چشتی کمپیوٹر ایکسپرٹ ہیں۔ وہ نیوجرسی کے علاقے میں رہتے ہیں۔ ان سے ایک گفتگو

‹ Previous page Next page › Contents of August 1998 All issues

Printed page