حب وطن اور اسلام
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۲۵
یہاں ایک معاملے کی وضاحت ضروری ہے۔ بعض انتہا پسند ہندو لیڈروں نے لکھا ہے کہ ہندوستان کے عیسائی اور مسلمان سچے محب وطن نہیں ہو سکتے۔ اسی لیے کہ محب وطن ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس وطن یا اس جغرافی خط کو آدمی مقدس سمجھتا ہو جہاں وہ پیدا ہوا ہے۔ ہندو چونکہ اپنے وطن (ماتر بھومی) کو مقدس سمجھتا ہے اور اس کو معبود کا درجہ دیتا ہے اس لیے وہی بھارت کا سچا محب وطن (دیش بھگت) ہے۔ عیسائی اور مسلمان چونکہ اپنے مخصوص عقیدہ کی بنا پر زمین یا کسی زمینی خط کو معبود کی طرح مقدس نہیں سمجھ سکتے اس لیے وہ بھارت کے سچے دیش بھگت بھی نہیں ہو سکتے۔
یہ ایک بے بنیاد بات ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے خود ساختہ عقیدہ کی بنا پر اپنی ماں کو معبود مان لے اور اس کی پرستش کرنے لگے تو اس بنا پر اس کو یہ کہنے کا لائسنس نہیں مل جائے گا کہ اس کے سوا بقیہ لوگ اپنی ماں سے محبت نہیں کرتے، کیونکہ وہ اپنی ماں کو معبود نہیں سمجھتے۔ کسی شخص یا گروہ کو بلا شبہ یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنی ماں کو (یا اپنے وطن کو) معبود سمجھنے لگے مگر کسی بھی قانون یا اصول کی بنا پر ایسے لوگوں کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ دوسروں کے بارے میں یہ حکم لگائیں کہ وہ اپنی ماں کو یا اپنے وطن کو) معبود مانیں، ورنہ وہ نہ اپنی ماں سے محبت کرنے والے قرار پائیں گے اور نہ اپنے وطن سے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے مغالطات کا تعلق عالمی سطح پر مانے ہوئے رواج سے ہے نہ کہ کسی شخص یا گروہ کے اپنے مفروضہ سے۔ عالمی اور بین اقوامی سطح پر جب یہ مان لیا گیا ہے کہ قومیت کی بنیاد وطن پر ہے، اور وطن سے مراد معروف معنوں میں جغرافی وحدت ہے نہ کہ پر اسرار معنوں میں تقدیسی وحدت۔ اس لیے حب الوطنی کا معیار ہر ایک کے لیے یہی ہو گا۔ البتہ ہر ایک کو یہ آزادی حاصل رہے گی کہ وہ اس کے علاوہ کوئی اور عقیدہ پسند کرتا ہو تو اس کو اپنے لیے اختیار کر لے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1998 All issues